اسلام آباد کے تمام شیشہ کیفے آج 14 اکتوبر سے بند، پرانے این او سی بھی ختم، انتظامیہ نے ان ڈور اور آؤٹ ڈور دونوں جگہوں پر شیشہ پیش کرنے پر مکمل پابندی لگا دی

اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت میں شیشے کی محفلیں اب قصہ پارینہ ہونے جا رہی ہیں۔ ضلعی انتظامیہ نے اعلان کیا ہے کہ 14 اکتوبر سے شہر کے تمام شیشہ کیفے بند رہیں گے اور یہ پابندی صرف بند کمروں تک محدود نہیں، کھلی جگہوں اور آؤٹ ڈور بیٹھکوں میں شیشہ پیش کرنا بھی اس میں شامل ہے۔
پرانے این او سی بھی اب نہیں چلیں گے
ڈپٹی کمشنر عرفان نواز میمن کے مطابق جن کیفوں کے پاس پہلے سے جاری کردہ این او سی موجود ہیں، وہ بھی اب کارآمد نہیں رہے۔ نئے انتظام کے بعد کوئی بھی شیشہ کیفے قانونی جواز پیش نہیں کر سکے گا۔ انتظامیہ نے واضح کر دیا ہے کہ جو کاروبار پھر بھی شیشہ پیش کرتا پایا گیا، اسے فوری طور پر سیل کر دیا جائے گا اور مالک کے خلاف فوجداری کارروائی ہوگی۔ اسسٹنٹ کمشنروں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ شہر بھر میں باقاعدہ معائنے کرتے رہیں تاکہ پابندی پر عمل یقینی بنایا جا سکے۔
معاملہ ہائی کورٹ سے یہاں تک پہنچا
یہ سختی اچانک نہیں آئی۔ اسلام آباد ہائی کورٹ میں غیر قانونی شیشہ کیفوں کے خلاف درخواست کی سماعت کے دوران چیف جسٹس سردار محمد سرفراز ڈوگر نے انتظامیہ سے سخت سوالات کیے تھے کہ قواعد موجود نہ ہوں تو یہ کیفے چل کیسے رہے ہیں۔ عدالت نے چیف کمشنر اور ڈپٹی کمشنر سے حلف نامے طلب کیے ہیں کہ شہر میں کوئی غیر قانونی شیشہ کیفہ نہیں چلے گا، اور یہ بھی کہا کہ جب تک حکومت باقاعدہ قوانین نہیں بنا لیتی، شیشہ کیفے نہیں کھلنے چاہئیں۔ سماعت میں نوجوانوں پر پڑنے والے اثرات پر بھی تشویش ظاہر کی گئی۔
نو ماہ میں 89 مقدمے، 282 افراد گرفتار
عدالت میں پیش کی گئی پولیس رپورٹ کے مطابق اسلام آباد پولیس اس سال یکم جنوری سے 7 ستمبر تک شیشہ کیفوں کے خلاف 89 مقدمے درج کر چکی ہے جن میں 282 افراد کو نامزد کیا گیا۔ حکومتی وکیل نے عدالت کو بتایا کہ شیشہ کیفوں کے لیے مسودہ قوانین تیار کر کے حکومت کو بھیجے جا چکے ہیں اور منظوری جلد متوقع ہے۔ تب تک کے لیے انتظامیہ کا پیغام دوٹوک ہے، شیشہ کیفے بند رہیں گے۔



