کراچی میں ورلڈ کلچر فیسٹیول کی تیاریاں تیز، کمشنر نے تمام شہری اور سکیورٹی اداروں کی مکمل معاونت کا اعلان کر دیا، 150 ممالک کے ایک ہزار سے زائد فنکار شریک ہوں گے

کراچی: شہر میں ایک بار پھر دنیا بھر کے فنکاروں کی آمد کی تیاریاں شروع ہو گئی ہیں۔ کمشنر کراچی سید حسن نقوی کی زیر صدارت آرٹس کونسل آف پاکستان میں ہونے والے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ تیسرے ورلڈ کلچر فیسٹیول کی کامیابی کے لیے تمام شہری اور سکیورٹی ادارے مل کر کام کریں گے۔ فیسٹیول 29 اکتوبر سے 22 نومبر تک آرٹس کونسل اور حکومت سندھ کے اشتراک سے ہوگا۔
کے ایم سی سے پولیس تک، سب کو ذمہ داریاں سونپ دی گئیں
اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو میں کمشنر کے ساتھ آرٹس کونسل کے صدر احمد شاہ بھی موجود تھے۔ طے پایا کہ کے ایم سی، ٹاؤن انتظامیہ، پولیس، ایس ایس یو اور سول ڈیفنس مشترکہ طور پر انتظامات سنبھالیں گے۔ تمام مقامات اور راستوں پر فول پروف سکیورٹی ہوگی، کے ایم سی اور ٹاؤنز فیسٹیول کی برانڈنگ کے ساتھ مقامات اور بڑی سڑکوں کی صفائی اور تزئین کریں گے۔ کمشنر نے کہا کہ کوشش یہ ہے کہ غیر ملکی مہمان یہاں سے شہر کا خوشگوار تاثر لے کر جائیں۔ مہمانوں کو کراچی یونیورسٹی، این ای ڈی یونیورسٹی، زیبسٹ اور مزار قائد کی سیر بھی کرائی جائے گی۔ جنوبی ضلع کے ڈپٹی کمشنر جاوید نبی کھوسو رابطے کی نگرانی کریں گے اور آرٹس کونسل میں سہولت ڈیسک قائم ہوگا۔
ایک ہزار سے زائد فنکار، تیس سے زائد ممالک کے پروگرام
احمد شاہ کے مطابق اس بار 150 کے قریب ممالک سے ایک ہزار سے زائد غیر ملکی فنکار کراچی آئیں گے، جبکہ پاکستان کے پانچ سو سے زائد فنکار بھی مختلف پروگراموں میں حصہ لیں گے۔ تھیٹر، موسیقی، مصوری اور رقص پر مشتمل پروگراموں میں امریکا، ایران اور روس سمیت تیس سے زائد ممالک کی جھلک ہوگی۔ اسکولوں کے بچوں کو بڑی تعداد میں فیسٹیول میں لانے کا بھی فیصلہ ہوا ہے تاکہ وہ دوسری ثقافتوں سے روشناس ہو سکیں۔ منتظمین کا کہنا ہے کہ یہ سلسلہ کراچی کو ایک پرامن اور ثقافتی طور پر زندہ شہر کے طور پر دنیا کے سامنے رکھنے کی کوشش ہے۔



