پیٹرول دو روپے اکہتر پیسے سستا ہو گیا، نئی قیمت تین سو بانوے روپے چھیاسٹھ پیسے فی لیٹر مقرر، ڈیزل میں صرف تین پیسے کی کمی

پیٹرولیم ڈویژن نے منگل کو نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا اور بدھ چودہ اکتوبر سے ملک بھر کے پمپوں پر عمل بھی شروع ہو گیا۔ پیٹرول اب تین سو پچانوے روپے سینتیس پیسے کے بجائے تین سو بانوے روپے چھیاسٹھ پیسے فی لیٹر ملے گا۔ کمی دو روپے اکہتر پیسے بنتی ہے۔
ہائی اسپیڈ ڈیزل کے خریداروں کے لیے خبر میں خاص راحت نہیں ہے۔ ڈیزل صرف تین پیسے سستا ہوا ہے اور اس کی نئی قیمت تین سو چھیانوے روپے بیاسی پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔
قیمت کیوں گری، ڈیزل کیوں نہیں گرا
اوگرا کے مطابق یہ تبدیلی بین الاقوامی منڈی سے آئی ہے۔ گزشتہ سات دنوں میں صاف شدہ پیٹرول کی اوسط قیمت میں کمی آئی، جبکہ ڈیزل کی قیمت تقریباً وہیں رکی رہی جہاں تھی۔ اسی فرق کا اثر درآمدی لاگت میں بھی نظر آیا۔ پیٹرول کی درآمدی لاگت دو سو چوراسی روپے انسٹھ پیسے سے گھٹ کر دو سو اکیاسی روپے اٹھاسی پیسے فی لیٹر ہو گئی، ڈیزل کی لاگت دو سو نواسی روپے انتیس پیسے پر برقرار رہی۔
لیوی اور مارجن میں کوئی تبدیلی نہیں
حکومت نے اس بار لیوی نہ بڑھائی ہے نہ گھٹائی ہے۔ دونوں ایندھنوں پر پیٹرولیم لیوی اسی روپے اور کلائمیٹ سپورٹ لیوی پانچ روپے فی لیٹر برقرار ہے۔ ڈیلرز کا مارجن نو روپے اٹھانوے پیسے اور آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کا مارجن سات روپے ستاسی پیسے فی لیٹر ہی رہے گا۔
یاد رہے کہ سترہ جولائی سے ملک میں ایندھن کی قیمتیں روزانہ کی بنیاد پر طے ہو رہی ہیں۔ اسی نظام کے تحت ایک دن پہلے، تیرہ اکتوبر کو بھی پیٹرول دو روپے ترانوے پیسے سستا کیا گیا تھا، البتہ اس دن ڈیزل اکسٹھ پیسے مہنگا ہوا تھا۔ روزانہ کے اس اتار چڑھاؤ میں عام صارف کے لیے اصل سوال یہی رہتا ہے کہ مہینے کے آخر میں اس کی جیب پر مجموعی اثر کیا پڑتا ہے۔



