یو این ڈی پی کی نئی رپورٹ: پاکستان کی 38.3 فیصد آبادی کثیر الجہتی غربت کا شکار، شرح بھارت اور بنگلہ دیش سے دگنی سے بھی زیادہ

واشنگٹن: اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (یو این ڈی پی) کی نئی رپورٹ کے مطابق پاکستان کی ایک تہائی سے زائد آبادی صحت، تعلیم اور معیار زندگی کے شعبوں میں بیک وقت کئی محرومیوں کا سامنا کر رہی ہے۔ رپورٹ میں پاکستان کی صورتحال خطے کے دیگر ملکوں کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ سنگین بتائی گئی ہے۔
شرح خطے میں سب سے زیادہ
یو این ڈی پی اور آکسفورڈ پاورٹی اینڈ ہیومن ڈیولپمنٹ انیشی ایٹو کے مشترکہ عالمی کثیر الجہتی غربت انڈیکس 2026 کے مطابق پاکستان میں اس غربت کی شرح 38.3 فیصد ہے، جبکہ بھارت میں یہ 16.4 اور بنگلہ دیش میں 14.9 فیصد ریکارڈ کی گئی۔ پاکستان میں محرومی کی شدت 51.7 فیصد بتائی گئی ہے اور مزید 12.9 فیصد آبادی کو اس غربت کی زد میں آنے کے خطرے سے دوچار قرار دیا گیا ہے۔ اسی شرح کو 2024 کی متوقع آبادی پر لاگو کیا جائے تو متاثرہ افراد کی تعداد تقریباً 9 کروڑ 63 لاکھ بنتی ہے۔
یہ انڈیکس کیا ناپتا ہے؟
یہ پیمانہ صرف آمدنی نہیں دیکھتا بلکہ غذائیت، بچوں کی اموات، تعلیم کے سال، اسکول حاضری، صفائی، پینے کے پانی، بجلی، رہائش اور گھریلو اثاثوں جیسی باہم جڑی محرومیوں کو بیک وقت پرکھتا ہے۔ پاکستان کے معاملے میں تعلیم کو محرومی کا سب سے بڑا سبب بتایا گیا ہے۔
ایک اہم وضاحت
رپورٹ خود واضح کرتی ہے کہ مختلف ملکوں کے اعداد و شمار مختلف برسوں کے گھریلو سروے پر مبنی ہیں، اس لیے یہ موازنہ ایک ہی وقت کی صورتحال کا عکاس نہیں۔ پاکستان کے اعداد 2017-18 کے ڈیموگرافک اینڈ ہیلتھ سروے پر مبنی ہیں۔ عالمی سطح پر بھی رجحان تشویشناک ہے: 15 برس میں پہلی بار کثیر الجہتی غربت کے شکار افراد کی تعداد بڑھ کر 1 ارب 20 کروڑ ہو گئی ہے، جن میں نصف سے زائد بچے ہیں اور 83 فیصد دیہی علاقوں میں رہتے ہیں۔



