خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی حامیوں اور پولیس کے درمیان جھڑپیں، آنسو گیس اور فائرنگ سے پانچ افراد زخمی، پچاس مظاہرین گرفتار، باڑہ میں نادرا مرکز نذر آتش

پشاور: خیبرپختونخوا میں منگل کو صورت حال ایک بار پھر کشیدہ ہو گئی جب صوبائی حکومت کی معطلی کے خلاف سڑکوں پر آئے پاکستان تحریک انصاف کے حامیوں اور پولیس کے درمیان جھڑپیں ہو گئیں۔ پی ٹی آئی عہدیداروں کے مطابق پولیس نے مظاہرین پر آنسو گیس کے گولے داغے اور براہ راست فائرنگ بھی کی، جس سے پانچ افراد زخمی ہو گئے۔
باڑہ میں سب سے شدید جھڑپیں
سب سے سنگین تصادم پشاور سے لگ بھگ پندرہ کلومیٹر دور باڑہ میں ہوا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ پچاس افراد کو حراست میں لیا گیا ہے جن پر سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے اور امن و امان خراب کرنے پر دہشت گردی اور تخریب کاری کے الزامات لگیں گے۔ ایک پولیس افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ مظاہرین نے باڑہ میں قومی ڈیٹا بیس و رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) کے مرکز کو آگ لگا دی۔ اس کے برعکس پی ٹی آئی کے سیکرٹری اطلاعات اکرام خٹانہ کا مؤقف ہے کہ آگ نامعلوم افراد نے لگائی جنہوں نے قریبی دفاتر پر بھی دھاوا بولا۔ دونوں فریقوں کے بیانات ایک دوسرے سے ٹکراتے ہیں اور زمینی صورت حال بدستور غیر یقینی ہے۔
ایمرجنسی کے بعد بڑھتی کشیدگی
وفاقی حکومت نے اتوار کو صوبے میں بڑھتی عسکریت پسندی کو بنیاد بنا کر ایمرجنسی نافذ کی تھی اور صوبائی حکومت کو معطل کر کے انتظام براہ راست اپنے ہاتھ میں لے لیا تھا۔ پی ٹی آئی اسے سیاسی قبضے کا بہانہ قرار دیتی ہے۔ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور ان کی کابینہ کے بعض ارکان پہلے ہی زیر حراست ہیں، جبکہ عمران خان کی بہنوں اور سیکڑوں کارکنوں کو بھی گرفتار کیا گیا تھا۔ حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات اس وقت ٹوٹ گئے تھے جب پارٹی نے اسلام آباد مارچ کی اجازت کے لیے عسکریت پسندی کی عوامی مذمت کی شرط ماننے سے انکار کر دیا تھا۔ منگل کی جھڑپوں نے اس تعطل کو سڑکوں تک پہنچا دیا ہے۔



