سہیل آفریدی کی بازیابی کے لیے بھائی محمد عامر پشاور ہائی کورٹ پہنچ گئے، آئینی درخواست میں وزیراعلیٰ ہاؤس سے حراست غیر قانونی قرار، عدالت میں پیش کرنے کا مطالبہ

پشاور: خیبرپختونخوا کے غیر فعال وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے بھائی محمد عامر نے منگل کو پشاور ہائی کورٹ میں آئینی درخواست دائر کر دی ہے جس میں ان کی فوری بازیابی اور عدالت کے سامنے پیش کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ درخواست وکیل بشیر خان وزیر کے توسط سے دائر کی گئی ہے۔
درخواست میں کیا کہا گیا ہے؟
درخواست گزار کے مطابق سہیل آفریدی کو 11 اکتوبر کو وزیراعلیٰ ہاؤس پشاور سے مسلح اور نقاب پوش افراد نے اس وقت اٹھایا جب کیپٹل سٹی پولیس آفیسر بھی وہاں موجود تھے، اور اس کے بعد سے ان کا ٹھکانہ ظاہر نہیں کیا گیا۔ درخواست میں اس عمل کو آئین کے آرٹیکل 4، 9، 10 اور 14 کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ منتخب وزیراعلیٰ کو آزادی سے محروم کرنا اور ان کے بارے میں معلومات روکنا سنگین آئینی معاملہ ہے۔ عدالت سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ بتایا جائے کہ آفریدی اس وقت کہاں ہیں، کس کی تحویل میں ہیں اور کس قانونی اختیار کے تحت رکھے گئے ہیں۔
سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے اور آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ
درخواست میں سی سی پی او پشاور کو واقعے کی مکمل تفصیلات اور اس وقت کے سیکیورٹی انتظامات کی رپورٹ عدالت میں جمع کرانے، سی سی ٹی وی فوٹیج اور دیگر شواہد محفوظ کرنے، اور مبینہ اٹھائے جانے کی آزادانہ اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کر کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا حکم دینے کی استدعا بھی کی گئی ہے۔ درخواست میں صوبائی آئی جی اور دیگر متعلقہ حکام کو بھی فریق بنایا گیا ہے۔
حکومتی مؤقف
وفاقی حکومت کا کہنا ہے کہ سہیل آفریدی اور ان کی کابینہ کے بعض ارکان احتیاطی تحویل میں ہیں جبکہ وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری واضح کر چکے ہیں کہ آفریدی گرفتار نہیں کیے گئے؛ ان کے بقول جن افراد کے خلاف مقدمات زیر التوا ہیں ان پر قانونی کارروائی ہوگی اور باقی رہا کر دیے جائیں گے۔ یاد رہے کہ صوبے میں 11 اکتوبر کو آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کیا گیا تھا جس کے بعد صوبائی اختیارات گورنر فیصل کریم کنڈی کو منتقل ہو گئے تھے۔



