منگل, 13 اکتوبر 2026
منگل, 13 اکتوبر 2026|
تازہ ترین
سہیل آفریدی کی بازیابی کے لیے بھائی محمد عامر پشاور ہائی کورٹ پہنچ گئے، آئینی درخواست میں وزیراعلیٰ ہاؤس سے حراست غیر قانونی قرار، عدالت میں پیش کرنے کا مطالبہ• آئی ایم ایف نے پاکستان کے لیے مہنگائی کی پیش گوئی بڑھا کر 9.9 فیصد کر دی، معاشی ترقی کی شرح 3.5 فیصد پر برقرار، دونوں تخمینے حکومتی اہداف سے مختلف• پاک فوج نے فتح ٹو توسیعی رینج ہائپرسونک بیلسٹک میزائل کا کامیاب تجربہ کر لیا، نظام دشمن کے میزائل دفاع کو ناکام بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے• مریم نواز نے ستھرا پنجاب کے لیے ایک ہفتے کی مہلت دے دی، افرادی قوت اور مشینری مکمل کرنے، بیٹ سسٹم نافذ کرنے اور ناکام کمپنیاں فارغ کرنے کا حکم• یو این ڈی پی کی نئی رپورٹ: پاکستان کی 38.3 فیصد آبادی کثیر الجہتی غربت کا شکار، شرح بھارت اور بنگلہ دیش سے دگنی سے بھی زیادہ• روس کے وزیر داخلہ ولادیمیر کولوکولتسیف چار روزہ دورے پر پاکستان پہنچ گئے، کسی روسی وزیر داخلہ کا یہ پہلا دورہ پاکستان ہے• کوئٹہ کے قریب پاک فوج کا مشاق تربیتی طیارہ تکنیکی خرابی کے باعث گر کر تباہ، انسٹرکٹر میجر حسنین شہزاد ہمایوں اور زیر تربیت کیپٹن عبدالصمد شہید• ریاض کا کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ 17 اکتوبر تک بند رہے گا، سعودی فضائی دفاع نے حوثیوں کے تین بیلسٹک میزائل ناکام بنا دیے، بڑی ایئرلائنز نے سعودی عرب کی پروازیں معطل کر دیں•
سیاست

سہیل آفریدی کی بازیابی کے لیے بھائی محمد عامر پشاور ہائی کورٹ پہنچ گئے، آئینی درخواست میں وزیراعلیٰ ہاؤس سے حراست غیر قانونی قرار، عدالت میں پیش کرنے کا مطالبہ

News Cuff

پشاور: خیبرپختونخوا کے غیر فعال وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے بھائی محمد عامر نے منگل کو پشاور ہائی کورٹ میں آئینی درخواست دائر کر دی ہے جس میں ان کی فوری بازیابی اور عدالت کے سامنے پیش کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ درخواست وکیل بشیر خان وزیر کے توسط سے دائر کی گئی ہے۔

درخواست میں کیا کہا گیا ہے؟

درخواست گزار کے مطابق سہیل آفریدی کو 11 اکتوبر کو وزیراعلیٰ ہاؤس پشاور سے مسلح اور نقاب پوش افراد نے اس وقت اٹھایا جب کیپٹل سٹی پولیس آفیسر بھی وہاں موجود تھے، اور اس کے بعد سے ان کا ٹھکانہ ظاہر نہیں کیا گیا۔ درخواست میں اس عمل کو آئین کے آرٹیکل 4، 9، 10 اور 14 کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ منتخب وزیراعلیٰ کو آزادی سے محروم کرنا اور ان کے بارے میں معلومات روکنا سنگین آئینی معاملہ ہے۔ عدالت سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ بتایا جائے کہ آفریدی اس وقت کہاں ہیں، کس کی تحویل میں ہیں اور کس قانونی اختیار کے تحت رکھے گئے ہیں۔

سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے اور آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ

درخواست میں سی سی پی او پشاور کو واقعے کی مکمل تفصیلات اور اس وقت کے سیکیورٹی انتظامات کی رپورٹ عدالت میں جمع کرانے، سی سی ٹی وی فوٹیج اور دیگر شواہد محفوظ کرنے، اور مبینہ اٹھائے جانے کی آزادانہ اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کر کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا حکم دینے کی استدعا بھی کی گئی ہے۔ درخواست میں صوبائی آئی جی اور دیگر متعلقہ حکام کو بھی فریق بنایا گیا ہے۔

حکومتی مؤقف

وفاقی حکومت کا کہنا ہے کہ سہیل آفریدی اور ان کی کابینہ کے بعض ارکان احتیاطی تحویل میں ہیں جبکہ وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری واضح کر چکے ہیں کہ آفریدی گرفتار نہیں کیے گئے؛ ان کے بقول جن افراد کے خلاف مقدمات زیر التوا ہیں ان پر قانونی کارروائی ہوگی اور باقی رہا کر دیے جائیں گے۔ یاد رہے کہ صوبے میں 11 اکتوبر کو آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کیا گیا تھا جس کے بعد صوبائی اختیارات گورنر فیصل کریم کنڈی کو منتقل ہو گئے تھے۔

قرآن مجید اردو ترجمے کے ساتھ پڑھیںنماز کے اوقات • رمضان کیلنڈر • قرآنی دعائیں

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے