کراچی کی عدالت نے اقرار الحسن کا چار روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا، این سی سی آئی اے نے پیکا مقدمے میں چودہ روز کی تحویل مانگی تھی

کراچی: معروف اینکر اور عوام راج تحریک کے سربراہ اقرار الحسن کو منگل کو کراچی کی عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں عدالت نے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کو ان کا چار روزہ جسمانی ریمانڈ دے دیا۔ این سی سی آئی اے نے عدالت سے چودہ روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی تھی، تاہم عدالت نے اس استدعا کو مکمل طور پر منظور نہیں کیا اور تفتیش کے لیے چار روز کی تحویل دی۔ اقرار الحسن کو پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (پیکا) کے تحت درج مقدمے میں عدالت کے سامنے پیش کیا گیا، جو ان کی مبینہ سوشل میڈیا پوسٹس سے متعلق ہے۔
مقدمہ کس الزام پر درج ہے؟
حکام کے مطابق مقدمہ سوشل میڈیا پر کی گئی مبینہ پوسٹس کی بنیاد پر درج کیا گیا ہے اور تفتیشی ادارہ ان پوسٹس کے مواد اور ان کے پس منظر کی جانچ کرنا چاہتا ہے۔ عدالت میں این سی سی آئی اے کے تفتیشی افسر نے مؤقف اختیار کیا کہ اقرار الحسن سے مزید تفتیش، بیانات کی تصدیق اور ریکارڈ کی جانچ کے لیے جسمانی ریمانڈ ضروری ہے۔ اسی بنیاد پر ادارے نے چودہ روز کی تحویل مانگی تھی، لیکن عدالت نے ریمانڈ کی مدت چار روز مقرر کی اور ہدایت کی کہ مقررہ مدت مکمل ہونے پر انہیں دوبارہ عدالت میں پیش کیا جائے۔
اہلخانہ کا مؤقف اور لاہور سے گرفتاری
اقرار الحسن کے اہلخانہ کا کہنا ہے کہ انہیں ایک روز قبل لاہور میں ان کے گھر سے حراست میں لیا گیا تھا، جس کے بعد اہلخانہ کو ان کے بارے میں فوری طور پر معلومات نہیں مل سکیں۔ اہلخانہ کے اس بیان کے بعد ان کی گرفتاری کی خبریں سامنے آئیں اور یہ معاملہ سوشل میڈیا پر بھی زیر بحث رہا۔ بعد ازاں انہیں کراچی منتقل کر کے عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں ان کی پیشی کے موقع پر متعلقہ افراد بھی موجود تھے۔
انکار اور حکومتی وضاحت
اس سے قبل حکام کی جانب سے گرفتاری سے متعلق مختلف بیانات سامنے آئے تھے، جبکہ بعض سطحوں پر ان کی حراست سے انکار بھی کیا گیا تھا۔ تاہم بعد میں حکومتی وضاحت سامنے آئی جس میں ان کی گرفتاری اور ان کے خلاف درج مقدمے کی تصدیق کی گئی۔ اب عدالت کی جانب سے چار روزہ جسمانی ریمانڈ دیے جانے کے بعد این سی سی آئی اے ان سے مقدمے کے حوالے سے تفتیش کرے گی، اور ریمانڈ کی مدت مکمل ہونے پر انہیں دوبارہ عدالت کے سامنے پیش کیا جائے گا۔



