بدھ, 14 اکتوبر 2026
بدھ, 14 اکتوبر 2026|
تازہ ترین
پنجاب میں صنعتی مزدوروں کے لیے موبائل ہیلتھ پروگرام شروع، چھیالیس لاکھ مزدوروں اور ان کے گھرانوں کو دہلیز پر علاج ملے گا، مارچ تک مزید بارہ اضلاع شامل ہوں گے• پاکستان اور یورپی یونین کا قانونی مائیگریشن کے راستے بڑھانے پر اتفاق، غیر قانونی مائیگریشن میں چونسٹھ فیصد کمی، سرحدی تعاون مزید مضبوط بنایا جائے گا• شہنشاہ قوالی استاد نصرت فتح علی خان کی 78ویں سالگرہ، وہ آواز جس نے قوالی کو فیصل آباد سے اٹھا کر پوری دنیا تک پہنچا دیا• پنجاب میں لائیو اسٹاک کارڈ کے دوسرے مرحلے کا آغاز، کسانوں کو سولہ ارب بیس کروڑ روپے کے بلاسود قرضے ملیں گے، فی جانور ستائیس ہزار روپے مقرر• پاکستان ہاکی لیگ کا اسلام آباد میں باضابطہ آغاز، پہلا سیزن 2027 میں ہوگا، چھ سے آٹھ فرنچائز ٹیمیں اور غیر ملکی کھلاڑی شامل ہوں گے• قومی اسمبلی نے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کی توثیق کر دی، قرارداد اکثریت سے منظور، بلاول نے مذاکرات کی پیشکش دہرا دی، گوہر نے فیصلہ مسترد کر دیا• سعودی ایئرپورٹس پر حملوں کا اثر پاکستان تک پہنچ گیا: 24 گھنٹوں میں 114 پروازیں منسوخ، 77 تاخیر کا شکار، ریاض کی 28 پروازیں بھی نہ جا سکیں• پریذیڈنٹ ٹرافی: اسرار حسین کی پانچ وکٹوں نے کے آر ایل کو 129 پر ڈھیر کر دیا، پی ٹی وی کو 91 رنز کی سبقت، دوسری اننگز میں مجموعی برتری 135 ہو گئی•
سیاست

قومی اسمبلی نے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کی توثیق کر دی، قرارداد اکثریت سے منظور، بلاول نے مذاکرات کی پیشکش دہرا دی، گوہر نے فیصلہ مسترد کر دیا

News Cuff

اسلام آباد: قومی اسمبلی نے بدھ کو خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کی توثیق کر دی۔ وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے ایمرجنسی کے اعلان سے متعلق تحریک پیش کی، قانون وزیر اعظم نذیر تارڑ نے بحث کا آغاز کیا اور ایوان نے اکثریت سے قرارداد منظور کر لی۔ اجلاس میں وقفہ سوالات اسی بحث کی نذر ہو گیا۔

یہ وہی اعلان ہے جو صدر مملکت نے 11 اکتوبر کو آئین کے آرٹیکل 232 کے تحت جاری کیا تھا۔ آئینی طریقہ کار کے مطابق اعلان دس دن کے اندر دونوں ایوانوں سے منظوری کا تقاضا کرتا ہے، سو اب معاملہ سینیٹ کے سامنے جائے گا۔ گورنر راج کا اعلان اس سے اگلا مرحلہ ہے؛ وہ مشترکہ اجلاس میں پیش ہوگا اور توسیع نہ ملی تو دو ماہ میں ختم ہو جائے گا۔

بلاول کی پیشکش، گوہر کا انکار

دن کی سب سے نمایاں تقریر بلاول بھٹو زرداری کی تھی۔ انہوں نے صوبائی قیادت کو موجودہ صورتحال کا ذمہ دار ٹھہرایا اور پی ٹی آئی کے طرزعمل کو اس کی اپنی حکومت پر سیاسی خودکش حملہ قرار دیا، مگر ساتھ ہی مذاکرات کی پیشکش ایک بار پھر دہرا دی۔ ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن اگر ایسے سیاسی حالات پیدا کر دے جن میں ایمرجنسی کی ضرورت ہی نہ رہے تو وہ خود ایوان میں کھڑے ہو کر وزیراعظم سے اسے ختم کرنے کی درخواست کریں گے۔ بیرسٹر گوہر نے پیشکش کا خیرمقدم کیا، لیکن فیصلہ یکسر مسترد کر دیا۔ انہوں نے نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کا مطالبہ کیا اور گرفتار ارکان اسمبلی کو ایوان میں پیش کرنے کی بات دہرائی۔

حکومت کا موقف اعداد و شمار کے ساتھ

اعظم نذیر تارڑ نے ایوان کو بتایا کہ صوبے میں 2021 سے 2024 کے درمیان دہشتگردی کے 2,911 واقعات ہوئے، جبکہ 15 اکتوبر 2025 سے 9 اکتوبر 2026 تک یہ تعداد 3,787 تک جا پہنچی؛ ان کے مطابق یہی بگڑتی صورتحال وفاق کو آئینی قدم پر مجبور کر گئی۔ وزیراعظم شہباز شریف بھی کچھ دیر اجلاس میں موجود رہے اور اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی سے مصافحہ کیا۔ اپوزیشن نے اس بار ہنگامہ آرائی کے بجائے پُرسکون انداز میں بحث میں حصہ لیا۔ اجلاس 16 اکتوبر کو صبح گیارہ بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔

قرآن مجید اردو ترجمے کے ساتھ پڑھیںنماز کے اوقات • رمضان کیلنڈر • قرآنی دعائیں

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے