قومی اسمبلی نے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کی توثیق کر دی، قرارداد اکثریت سے منظور، بلاول نے مذاکرات کی پیشکش دہرا دی، گوہر نے فیصلہ مسترد کر دیا

اسلام آباد: قومی اسمبلی نے بدھ کو خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کی توثیق کر دی۔ وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے ایمرجنسی کے اعلان سے متعلق تحریک پیش کی، قانون وزیر اعظم نذیر تارڑ نے بحث کا آغاز کیا اور ایوان نے اکثریت سے قرارداد منظور کر لی۔ اجلاس میں وقفہ سوالات اسی بحث کی نذر ہو گیا۔
یہ وہی اعلان ہے جو صدر مملکت نے 11 اکتوبر کو آئین کے آرٹیکل 232 کے تحت جاری کیا تھا۔ آئینی طریقہ کار کے مطابق اعلان دس دن کے اندر دونوں ایوانوں سے منظوری کا تقاضا کرتا ہے، سو اب معاملہ سینیٹ کے سامنے جائے گا۔ گورنر راج کا اعلان اس سے اگلا مرحلہ ہے؛ وہ مشترکہ اجلاس میں پیش ہوگا اور توسیع نہ ملی تو دو ماہ میں ختم ہو جائے گا۔
بلاول کی پیشکش، گوہر کا انکار
دن کی سب سے نمایاں تقریر بلاول بھٹو زرداری کی تھی۔ انہوں نے صوبائی قیادت کو موجودہ صورتحال کا ذمہ دار ٹھہرایا اور پی ٹی آئی کے طرزعمل کو اس کی اپنی حکومت پر سیاسی خودکش حملہ قرار دیا، مگر ساتھ ہی مذاکرات کی پیشکش ایک بار پھر دہرا دی۔ ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن اگر ایسے سیاسی حالات پیدا کر دے جن میں ایمرجنسی کی ضرورت ہی نہ رہے تو وہ خود ایوان میں کھڑے ہو کر وزیراعظم سے اسے ختم کرنے کی درخواست کریں گے۔ بیرسٹر گوہر نے پیشکش کا خیرمقدم کیا، لیکن فیصلہ یکسر مسترد کر دیا۔ انہوں نے نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کا مطالبہ کیا اور گرفتار ارکان اسمبلی کو ایوان میں پیش کرنے کی بات دہرائی۔
حکومت کا موقف اعداد و شمار کے ساتھ
اعظم نذیر تارڑ نے ایوان کو بتایا کہ صوبے میں 2021 سے 2024 کے درمیان دہشتگردی کے 2,911 واقعات ہوئے، جبکہ 15 اکتوبر 2025 سے 9 اکتوبر 2026 تک یہ تعداد 3,787 تک جا پہنچی؛ ان کے مطابق یہی بگڑتی صورتحال وفاق کو آئینی قدم پر مجبور کر گئی۔ وزیراعظم شہباز شریف بھی کچھ دیر اجلاس میں موجود رہے اور اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی سے مصافحہ کیا۔ اپوزیشن نے اس بار ہنگامہ آرائی کے بجائے پُرسکون انداز میں بحث میں حصہ لیا۔ اجلاس 16 اکتوبر کو صبح گیارہ بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔



