پشاور اسکول سانحہ: اموات کی تعداد 29 تک جا پہنچی، ریسکیو آپریشن مکمل ہونے کے بعد اسکول مالک گرفتار، انکوائری کمیٹی قائم

پشاور کے اسکول سانحے میں جاں بحق افراد کی تعداد بڑھ کر کم از کم 29 ہو گئی ہے، جبکہ ریسکیو آپریشن مکمل ہونے کے بعد پولیس نے نجی اسکول کے مالک کو گرفتار کر لیا ہے۔ ڈپٹی کمشنر پشاور آفاق وزیر کے مطابق ملبہ مکمل طور پر صاف کر دیا گیا ہے اور جائے حادثہ پر اب کوئی زخمی بچہ موجود نہیں۔ کیپٹل سٹی پولیس آفیسر ڈاکٹر میاں سعید نے بھی اس بات کی تصدیق کی کہ ملبے تلے دبے تمام افراد کو نکال لیا گیا ہے۔
جاں بحق بچوں میں چھ لڑکیاں بھی شامل ہیں اور بیشتر بچوں کی عمریں 13 برس سے کم تھیں۔ لیڈی ریڈنگ اسپتال کے ترجمان محمد عاصم کے مطابق اسپتال لائے جانے والے جاں بحق افراد کی تعداد 28 تک پہنچ چکی تھی، جبکہ بعض میتیں ناصر اللہ خان بابر اسپتال بھی منتقل کی گئیں۔ زخمیوں میں سے کئی کی حالت اب بھی تشویشناک ہے اور اسپتال میں ایمرجنسی برقرار ہے۔
اسکول مالک کی گرفتاری اور انکوائری کمیٹی
پولیس کے مطابق اسکول مالک کو غفلت اور غیر قانونی تعمیر کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔ انتظامیہ نے واقعے کی وجوہات جاننے کے لیے انکوائری کمیٹی بھی قائم کر دی ہے۔ اطلاعات کے مطابق یہ اسکول ایک رہائشی مکان میں قائم تھا جہاں گنجائش سے کہیں زیادہ بچے پڑھ رہے تھے، اور اوپر کی منزل پر بنائی گئی کمزور چھتیں وزن نہ سہار سکیں تو نیچے کی چھت بھی ساتھ ہی بیٹھ گئی۔
صوبائی سیکرٹری تعلیم عنایت اللہ وسیم نے پرائیویٹ اسکولز ریگولیٹری اتھارٹی کے سربراہ کو کل تک رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔ گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی پہلے ہی واقعے کی تفصیلی رپورٹ طلب کر چکے ہیں، جبکہ وزیر اعظم شہباز شریف نے زخمیوں کو بہترین طبی سہولتیں دینے کی ہدایت کی تھی۔
صبح کے وقت جب یہ خبر پہلی بار سامنے آئی تھی تو جاں بحق بچوں کی تعداد 21 بتائی جا رہی تھی۔ ملبہ ہٹنے کے ساتھ ساتھ تعداد بڑھتی گئی، اور اب اصل سوال یہی ہے کہ گنجائش سے زیادہ بچوں والا اسکول ایک رہائشی مکان میں برسوں کیسے چلتا رہا اور اس کی عمارت کی جانچ کس نے کرنی تھی۔ انکوائری کمیٹی کی رپورٹ اسی سوال کا جواب دے گی۔



