حکومت نے ٹریژری بلز کی نیلامی سے 660 ارب روپے اکٹھے کر لیے، چھ ماہ کے بلز پر منافع پالیسی ریٹ سے 89 بنیادی پوائنٹس زیادہ برقرار

حکومت نے بدھ کو ہونے والی ٹریژری بلز کی نیلامی سے 660 ارب 6 کروڑ روپے حاصل کر لیے۔ اسٹیٹ بینک کے جاری کردہ نتائج کے مطابق نیلامی میں مجموعی طور پر 2 ہزار 520 ارب روپے کی بولیاں موصول ہوئی تھیں، یعنی سرمایہ کاروں کی دلچسپی حاصل کی گئی رقم سے تقریباً چار گنا زیادہ رہی۔ نیلامی میں ایک ماہ، تین ماہ، چھ ماہ اور بارہ ماہ کی مدت کے بلز پیش کیے گئے تھے اور ان کی ادائیگی 15 اکتوبر کو طے ہے۔
سب سے زیادہ رقم تین ماہ کے بلز سے آئی، جن سے 301 ارب 86 کروڑ روپے ملے۔ چھ ماہ کے بلز سے 227 ارب 84 کروڑ، ایک ماہ کے بلز سے 112 ارب 98 کروڑ اور بارہ ماہ کے بلز سے صرف 17 ارب 37 کروڑ روپے حاصل ہوئے۔ سرمایہ کاروں کا جھکاؤ صاف نظر آتا ہے: رقم لمبی مدت کے بجائے مختصر مدت میں لگانا زیادہ مناسب سمجھا جا رہا ہے۔
منافع کی شرحیں کیا رہیں؟
ایک ماہ کے بلز پر کٹ آف ییلڈ 11.50 فیصد، تین ماہ پر 12 فیصد، چھ ماہ پر 12.39 فیصد اور بارہ ماہ پر 12.50 فیصد رہی۔ چھ ماہ کے بلز کی شرح پچھلی نیلامی کے 12.45 فیصد سے معمولی سی کم ضرور ہوئی، مگر یہ اب بھی پالیسی ریٹ سے 89 بنیادی پوائنٹس اوپر ہے۔ غیر مسابقتی بولیوں کے ذریعے 259 ارب 70 کروڑ روپے بھی قبول کیے گئے، جن میں صوبائی حکومتوں کی 194 ارب 67 کروڑ روپے کی بولیاں بھی شامل تھیں اور وہ تمام تین ماہ کی مدت میں لگائی گئیں۔
بینکاروں کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال دو طرفہ کہانی بیان کرتی ہے۔ ایک طرف حکومت کا انحصار بینکوں سے قرض پر بڑھتا جا رہا ہے اور ہر سال ملکی قرض کا حجم پھیلتا جا رہا ہے، دوسری طرف نجی شعبہ جو قرض لے بھی رہا ہے وہ زیادہ تر روزمرہ اخراجات پورے کرنے کے لیے ہے، کسی نئی لمبی مدت سرمایہ کاری کے لیے نہیں۔ جب بینکوں کو سرکاری کاغذ پر پالیسی ریٹ سے زیادہ منافع مل رہا ہو تو نجی شعبے کو قرض دینے کی ترغیب خود بخود کم ہو جاتی ہے۔



