پاکستان میں مشین ریڈ ایبل پاسپورٹ کا دور ختم، 15 اکتوبر سے تمام نئے درخواست گزاروں کو صرف ای پاسپورٹ ملے گا، پرانے پاسپورٹ میعاد ختم ہونے تک کارآمد رہیں گے

پاکستان کا پاسپورٹ نظام آج سے باضابطہ طور پر نئے دور میں داخل ہو گیا ہے۔ ڈائریکٹوریٹ جنرل امیگریشن اینڈ پاسپورٹس کی ہدایت پر 15 اکتوبر سے ملک بھر کے پاسپورٹ دفاتر اور بیرون ملک پاکستانی مشنز میں نئے مشین ریڈ ایبل پاسپورٹ کا اجرا بند کر دیا گیا ہے۔ اب جو بھی شہری نیا پاسپورٹ بنوائے گا یا تجدید کرائے گا، اسے صرف ای پاسپورٹ ہی ملے گا۔ مشین ریڈ ایبل پاسپورٹ کے لیے آخری دن 14 اکتوبر تھا۔
جس بات پر سب سے زیادہ سوال اٹھ رہا تھا، اس کا جواب واضح ہے: جن شہریوں کے پاس موجودہ مشین ریڈ ایبل پاسپورٹ موجود ہے، وہ اسے فوری طور پر تبدیل کرنے کے پابند نہیں۔ پرانے پاسپورٹ اپنی میعاد ختم ہونے تک پوری طرح کارآمد رہیں گے، اور میعاد ختم ہونے پر ہی نیا ای پاسپورٹ بنوانا ہو گا۔
ای پاسپورٹ میں کیا نیا ہے؟
ای پاسپورٹ کے اندر ایک الیکٹرانک چپ ہوتی ہے جس میں پاسپورٹ رکھنے والے کی ذاتی معلومات اور بایومیٹرک تفصیلات محفوظ ہوتی ہیں۔ اس چپ کو ہم آہنگ امیگریشن نظام خودکار طور پر پڑھ کر شناخت کی تصدیق کر سکتا ہے، جس سے جعلسازی مشکل اور ہوائی اڈوں پر جانچ تیز ہو جاتی ہے۔ یہی وہ نظام ہے جس کی طرف دنیا کے بیشتر ممالک پہلے ہی منتقل ہو چکے ہیں۔ مکمل منتقلی کا فیصلہ وزیر داخلہ محسن نقوی نے جون میں سنایا تھا۔
بیرون ملک پاکستانیوں کے لیے انتظامات بھی ساتھ ساتھ جاری ہیں۔ تاشقند میں پاکستانی سفارت خانے نے 15 اکتوبر سے ای پاسپورٹ کا اجرا شروع کر دیا ہے اور درخواست گزار ای میل یا فون پر اپائنٹمنٹ لے سکتے ہیں۔ سویڈن اور اٹلی میں پاکستانی مشنز نئی فیس کا شیڈول بھی جاری کر چکے ہیں؛ مثال کے طور پر اٹلی میں پانچ سالہ 36 صفحات کا ای پاسپورٹ عام زمرے میں 55 یورو اور ارجنٹ میں 90 یورو کا ہے، جبکہ دس سالہ پاسپورٹ کی فیس 85 اور 135 یورو رکھی گئی ہے۔ عمان میں پاکستانی سفارت خانے نے تکنیکی وجوہات کی بنا پر 15 اکتوبر کو پاسپورٹ خدمات ایک دن کے لیے معطل رکھیں، جو 16 اکتوبر سے بحال ہو جائیں گی۔
درخواست گزاروں کے لیے دانشمندی اسی میں ہے کہ وہ اپنے مقامی پاسپورٹ دفتر یا مشن کی تازہ ہدایات پہلے دیکھ لیں، کیونکہ فیس اور طریقہ کار ملک کے حساب سے مختلف ہو سکتا ہے۔



