پشاور کی دیر کالونی میں نجی اسکول کی چھت گر گئی، 21 بچے اور خاتون ٹیچر جاں بحق، چالیس سے زائد زخمی، ملبے تلے مزید بچوں کی تلاش جاری

پشاور کی دیر کالونی میں واقع نجی اسکول کی چھت جمعرات کی صبح اچانک ڈھے گئی، اور دیکھتے ہی دیکھتے کلاس روم ملبے کا ڈھیر بن گیا۔ لیڈی ریڈنگ اسپتال کی انتظامیہ کے مطابق اسپتال لائے جانے والے جاں بحق بچوں کی تعداد 21 ہو گئی ہے، جبکہ ایک خاتون ٹیچر کی میت بھی اسپتال منتقل کی گئی۔ صبح سویرے ہلاکتوں کی تعداد کم بتائی جا رہی تھی، مگر ملبہ ہٹانے کے ساتھ ساتھ یہ تعداد بڑھتی گئی۔
اسپتال کے ترجمان محمد عاصم کا کہنا ہے کہ جاں بحق ہونے والے تمام بچوں کی عمریں 13 برس یا اس سے کم تھیں۔ اسپتال میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے اور انتظامیہ خود ٹراما یونٹ میں موجود ہے تاکہ زخمیوں کے علاج میں کوئی تاخیر نہ ہو۔
زخمیوں کی تعداد پر مختلف اعداد سامنے آئے ہیں
لیڈی ریڈنگ اسپتال کے مطابق ابتدائی مرحلے میں 20 زخمی بچے اسپتال لائے گئے، تاہم کیپٹل سٹی پولیس آفیسر ڈاکٹر میاں سعید کا کہنا ہے کہ زخمیوں کی مجموعی تعداد چالیس سے زیادہ ہے، جن میں اساتذہ بھی شامل ہیں۔ کئی زخمی بچوں کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
ریسکیو 1122 کی ٹیمیں موقع پر موجود ہیں اور ملبہ ہٹانے کا کام جاری ہے۔ حکام کو خدشہ ہے کہ مزید بچے اور عملہ اب بھی ملبے تلے دبے ہو سکتے ہیں، اسی لیے تلاش کا عمل احتیاط اور تیزی، دونوں کے ساتھ جاری رکھا گیا ہے۔ حادثے کی وجہ تاحال سرکاری طور پر سامنے نہیں آئی۔ بعض حکام کے مطابق عمارت بارش سے متاثر تھی، تاہم اس کی باقاعدہ تصدیق ابھی باقی ہے۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے واقعے پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے زخمیوں کو ہر ممکن طبی سہولت دینے اور ریسکیو کام تیز کرنے کی ہدایت کی ہے۔ گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے متعلقہ حکام سے رپورٹ طلب کر لی ہے، جبکہ صوبائی سیکرٹری تعلیم عنایت اللہ وسیم نے پرائیویٹ اسکولز ریگولیٹری اتھارٹی کے سربراہ کو کل تک رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔
یہ سانحہ ایک پرانے سوال کو پھر سامنے لے آیا ہے۔ پاکستان میں خستہ حال عمارتوں کے گرنے کے واقعات بار بار پیش آتے ہیں اور ہر بار اسکولوں اور نجی تعلیمی اداروں کی عمارتوں کی جانچ کا نظام زیر بحث آتا ہے۔ اس بار بھی اصل امتحان یہی ہو گا کہ رپورٹ صرف فائل میں بند ہوتی ہے یا ذمہ داروں کا تعین بھی ہوتا ہے۔



