پاکستان اور عمان کے درمیان چھ معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں کا تبادلہ، مشترکہ وزارتی کمیشن کے آٹھویں اجلاس میں تجارت، توانائی اور افرادی قوت کے ورکنگ گروپ قائم

اسلام آباد: پاکستان اور عمان نے بدھ کو اسلام آباد میں چھ معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں کا تبادلہ کر لیا۔ یہ دستاویزات دونوں ملکوں کے مشترکہ وزارتی کمیشن کے آٹھویں اجلاس کے موقع پر سامنے آئیں، جس کی صدارت نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور عمان کے وزیر خارجہ سید بدر بن حمد بن حمود البوسعیدی نے مشترکہ طور پر کی۔ وزیراعظم شہباز شریف نے عمانی وزیر خارجہ سے ملاقات بھی کی اور دستاویزات کے تبادلے کی تقریب میں موجود رہے۔
کن شعبوں میں معاہدے ہوئے؟
اسحاق ڈار اور البوسعیدی نے تین دستاویزات پر دستخط کیے: کمیشن کے اجلاس کے منٹس کا پروٹوکول، سفارتی، خصوصی، سرکاری اور سروس پاسپورٹ رکھنے والوں کے لیے باہمی ویزا استثنیٰ کا معاہدہ، اور ریکارڈز و آرکائیوز سے متعلق یادداشت۔ باقی تین یادداشتوں کا تعلق اطلاعات و نشریات، انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن اور خبروں کے تبادلے و میڈیا تعاون سے ہے، جن پر متعلقہ وفاقی وزرا نے دستخط کیے۔
اب آگے کیا ہوگا؟
اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ اجلاس کا ایک عملی نتیجہ یہ نکلا ہے کہ تجارت و سرمایہ کاری، زراعت، تیل و گیس اور افرادی قوت و انسانی وسائل پر مشترکہ ورکنگ گروپ بنا کر فعال کر دیے گئے ہیں، تاکہ فیصلوں پر عمل درآمد کسی ایک اجلاس تک محدود نہ رہے۔ بات چیت میں بندرگاہیں اور لاجسٹکس، توانائی، غذائی تحفظ، سیاحت اور تعلیم بھی زیر بحث آئے۔ کمیشن کا نواں اجلاس عمان میں ہوگا۔
دونوں وزرائے خارجہ نے مشرق وسطیٰ کی بگڑتی صورتحال پر سفارت کاری کو ہی آگے کا راستہ قرار دیا اور آبنائے ہرمز و باب المندب جیسے اہم سمندری راستوں سے بحری آمد و رفت کی حفاظت اور آزادی پر زور دیا — یہی وہ گزرگاہیں ہیں جن سے دنیا کی توانائی اور خوراک کی سپلائی کا بڑا حصہ گزرتا ہے۔
واضح رہے کہ البوسعیدی اسحاق ڈار کی دعوت پر 13 اکتوبر سے دو روزہ دورے پر پاکستان آئے تھے، اور یہ اجلاس اسی دورے کا مرکزی حصہ تھا۔



