پشاور سانحے کے بعد خیبر پختونخوا میں تمام سرکاری اسکولوں کی عمارتوں کا حفاظتی معائنہ شروع کرنے کا حکم، رپورٹس 26 اکتوبر تک طلب

پشاور کے نجی اسکول کی چھت گرنے سے درجنوں بچوں کی ہلاکت کے بعد خیبر پختونخوا حکومت حرکت میں آ گئی ہے۔ محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم نے محکمہ مواصلات و تعمیرات (سی اینڈ ڈبلیو) کو ہدایت کی ہے کہ ہر ضلع میں تکنیکی ٹیمیں تشکیل دے کر صوبے بھر کے تمام سرکاری اسکولوں کی عمارتوں کا مکمل معائنہ کیا جائے۔ ہدایت نامہ 15 اکتوبر کو جاری ہوا اور ضلعی رپورٹس 26 اکتوبر کو دوپہر تک طلب کی گئی ہیں۔
ٹیمیں کیا دیکھیں گی
معائنہ کرنے والی ٹیمیں چھتوں، دیواروں، شہتیروں، بنیادوں اور سیڑھیوں سمیت عمارت کے ہر اہم حصے کا جائزہ لیں گی تاکہ خرابیاں اور ممکنہ خطرات وقت پر سامنے آ سکیں۔ کام ضلعی تعلیمی افسران کے تعاون سے ہوگا اور لڑکوں و لڑکیوں کے تمام اسکول اس میں شامل ہوں گے۔ ہر عمارت کو تین درجوں میں رکھا جائے گا: محفوظ، مرمت کی محتاج، یا فوری توجہ طلب غیر محفوظ۔
خطرناک عمارت کا انتظار نہیں ہوگا
حکم نامے میں واضح کیا گیا ہے کہ اگر کوئی عمارت بچوں اور اساتذہ کے لیے فوری خطرہ بن رہی ہو تو سروے مکمل ہونے کا انتظار نہ کیا جائے، ضلعی انتظامیہ کو فوراً اطلاع دی جائے اور ضرورت پڑے تو اس کا استعمال روک دیا جائے۔ ہر اسکول کے لیے سیفٹی کلیئرنس سرٹیفکیٹ یا این او سی بھی جاری ہوگا، جب کہ تین رکنی فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی ڈیرہ کالونی کے الخیر ایجوکیشن سسٹم کے سانحے کی وجوہات الگ سے جانچ رہی ہے۔



