لاہور میں امریکی شہریوں کو انشورنس کے نام پر لوٹنے والا غیر قانونی کال سینٹر پکڑا گیا، مالک سمیت دو ملزم گرفتار

لاہور: نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے گلبرگ کی مین بلیوارڈ پر چلنے والے ایک غیر قانونی کال سینٹر پر چھاپہ مار کر اس کے مالک ارشاد احمد بٹ اور ملازم اورنگزیب کو گرفتار کر لیا ہے۔ ایجنسی کے مطابق یہ کال سینٹر حفیظ سینٹر کے اندر سے چلایا جا رہا تھا اور یہاں سے امریکی شہریوں کو نشانہ بنایا جاتا تھا۔
طریقہ واردات سادہ مگر پر اعتماد تھا
این سی سی آئی اے لاہور زون کے ایڈیشنل ڈائریکٹر عاطف امیر کے مطابق ملزمان خود کو انشورنس کمپنیوں کے نمائندے ظاہر کر کے امریکی شہریوں کو فون کرتے تھے۔ انشورنس مہم کے بہانے ان سے کریڈٹ اور ڈیبٹ کارڈ کی تفصیلات حاصل کی جاتیں، اور پھر انہی تفصیلات سے غیر قانونی مالی لین دین کیا جاتا تھا۔ ایجنسی کو اس مرکز کی مشکوک سرگرمیوں کا سراغ اوپن سورس انٹیلی جنس سے ملا، جس کے بعد عدالت سے سرچ وارنٹ لے کر کارروائی کی گئی۔
لیپ ٹاپ اور موبائل فارنزک جانچ کے لیے بھیج دیے گئے
چھاپے میں برآمد ہونے والے لیپ ٹاپ اور موبائل فونز کی ابتدائی جانچ میں آن لائن کالنگ سافٹ ویئر اور مالی فراڈ سے جڑا ڈیٹا ملا ہے۔ آلات فارنزک جانچ کے لیے بھیج دیے گئے ہیں تاکہ یہ پتہ چل سکے کہ کتنے لوگ اس جال میں پھنسے اور رقم کہاں کہاں منتقل ہوئی۔
یہ اس مہینے کی پہلی کارروائی نہیں
لاہور میں یہ رجحان نیا نہیں رہا۔ اسی ایجنسی نے گزشتہ ہفتے جوہر ٹاؤن کے ایک اور غیر قانونی کال سینٹر سے 37 افراد گرفتار کیے تھے، جہاں ملزمان موبائل فون فروخت کے جھانسے سے امریکا اور کینیڈا کے شہریوں کے کارڈ کی تفصیلات نکلوا رہے تھے۔ اس کارروائی میں 80 ڈیوائسز قبضے میں لی گئی تھیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ شہر میں ایسے مراکز کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی۔ ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے، تاہم الزامات ابھی عدالت میں ثابت ہونا باقی ہیں۔



