ہفتہ, 17 اکتوبر 2026
ہفتہ, 17 اکتوبر 2026|
تازہ ترین
پاکستان نے بھارتی طیاروں کے لیے اپنی فضائی حدود کی بندش میں 24 نومبر تک توسیع کر دی، نیا نوٹم نافذ العمل ہو گیا• گاجر کا حلوہ گھر پر بنائیں: دودھ میں گھلی گاجریں، کھویا اور الائچی کی خوشبو کے ساتھ اصل دیسی مزہ• راجب بٹ کی پہلی فلم کو ایمی ورک کا گانا مل گیا، یوٹیوبر نے پوڈکاسٹ میں مداحوں کو خوشخبری سنا دی• حج واجبات کی دوسری قسط کی آخری تاریخ قریب آ گئی، وزارت مذہبی امور نے عازمین کو 20 اکتوبر سے پہلے ادائیگی مکمل کرنے کی ہدایت کر دی• جھنگ میں پہلی ڈیزرٹ ریلی تھل کے ٹیلوں میں جاری، 95 کلومیٹر ٹریک پر سو کے قریب ڈرائیور میدان میں• کراچی کے ٹراما سینٹر میں دس برس میں سڑک حادثات کے 3 لاکھ 28 ہزار سے زائد کیسز رپورٹ ہوئے• لاہور میں امریکی شہریوں کو انشورنس کے نام پر لوٹنے والا غیر قانونی کال سینٹر پکڑا گیا، مالک سمیت دو ملزم گرفتار• دھماکوں اور حملوں کی لائیو کوریج پر پیمرا کی پابندی واپس لی جائے، صحافیوں کے تحفظ کی عالمی تنظیم سی پی جے کا مطالبہ•
مضامین

دھماکوں اور حملوں کی لائیو کوریج پر پیمرا کی پابندی واپس لی جائے، صحافیوں کے تحفظ کی عالمی تنظیم سی پی جے کا مطالبہ

News Cuff

نیویارک: صحافیوں کے تحفظ کی عالمی تنظیم کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس (سی پی جے) نے پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ دھماکوں، فائرنگ اور دہشت گرد حملوں سمیت ہر اس واقعے کی لائیو کوریج پر پابندی اٹھا لی جائے جسے پیمرا نے اپنے 13 اکتوبر کے نوٹیفکیشن میں ”ناخوشگوار“ قرار دیا ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ پیمرا لائیو کوریج پر یہ قدغن خبر رساں اداروں کو آزادانہ رپورٹنگ سے روکتی ہے، اور صحافیوں کو وہی خبر نشر کرنے پر مجبور کرتی ہے جس کی تصدیق سرکاری محکمے یا قانون نافذ کرنے والے ادارے کریں۔

نوٹیفکیشن میں کیا کہا گیا ہے

پیمرا نے تمام سیٹلائٹ ٹی وی چینلز کو ہدایت کی ہے کہ وہ کسی بھی دھماکے، فائرنگ یا دہشت گرد حملے کی لائیو کوریج، بلکہ اس کی دوبارہ نشریات سے بھی پرہیز کریں۔ عمل نہ کرنے پر قانونی کارروائی کی وارننگ دی گئی ہے، اور چینلز کو کہا گیا ہے کہ وہ نشریات میں تاخیر کا نظام رکھیں اور اپنے ہاں آزاد ادارتی بورڈ قائم کریں۔ یہ ہدایت دراصل فروری 2023 کے اسی پرانے حکم کی تجدید ہے، جب پیمرا نے الزام لگایا تھا کہ دہشت گرد حملوں کے دوران چینلز غیر مصدقہ اور قیاس آرائی پر مبنی خبریں چلا رہے تھے۔

”یہ حفاظتی تدبیر نہیں، معلومات پر سرکاری کنٹرول ہے“

سی پی جے کے افغانستان و پاکستان نمائندے ولی اللہ رحمانی نے کہا کہ صحافیوں کو بڑے سکیورٹی واقعات کی آزادانہ رپورٹنگ سے روکنا اور انہیں ریاستی اداروں کی منظور شدہ معلومات کا پابند بنانا جائز حفاظتی تدابیر کو سرکاری معلومات کے کنٹرول اور سنسرشپ کے نظام میں بدل سکتا ہے۔ ان کے بقول پاکستانی حکام یہ وسیع پابندیاں واپس لیں اور نیوز رومز کو ریگولیٹری انتقام کے خوف کے بغیر ذمہ دارانہ ادارتی فیصلے کرنے دیں۔

اصل سوال الفاظ کا ہے

اس تنازع کی جڑ ”ناخوشگوار واقعہ“ جیسی مبہم اصطلاح ہے۔ دھماکہ اور حملہ تو واضح ہے، مگر یہ لفظ اتنا وسیع ہے کہ کل کو کوئی احتجاج، کوئی حادثہ یا کوئی ناخوشگوار سیاسی منظر بھی اسی زمرے میں ڈالا جا سکتا ہے۔ چینلز کے لیے عملی مشکل یہ ہے کہ بریکنگ نیوز میں پہلی خبر ہمیشہ نامکمل ہوتی ہے؛ اگر ہر خبر سرکاری تصدیق کے بعد ہی چلے گی تو خبر، خبر نہیں رہے گی بلکہ سرکاری اعلامیہ بن جائے گی۔ دوسری طرف پیمرا کا موقف بھی مکمل طور پر بے بنیاد نہیں: ماضی میں حملوں کے دوران براہ راست نشریات سے سکیورٹی آپریشن متاثر ہونے کی شکایات سامنے آ چکی ہیں۔ اصل لڑائی اسی توازن کی ہے کہ ذمہ داری نیوز روم کی پیشہ ورانہ صوابدید سے آئے یا ریگولیٹر کے حکم سے۔ فی الحال پیمرا نے اس مطالبے پر کوئی ردعمل نہیں دیا۔

قرآن مجید اردو ترجمے کے ساتھ پڑھیںنماز کے اوقات • رمضان کیلنڈر • قرآنی دعائیں

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے