سابق آرمی چیف جنرل (ر) عبدالوحید کاکڑ 89 برس کی عمر میں راولپنڈی میں انتقال کر گئے

Former Chief of Army Staff General (retired) Abdul Waheed Kakar. (Photo: Wikimedia Commons, official portrait)
راولپنڈی: پاکستان کے سابق چیف آف آرمی اسٹاف جنرل (ر) عبدالوحید کاکڑ پیر کو راولپنڈی میں انتقال کر گئے۔ وہ 89 برس کے تھے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے ان کے انتقال کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ چیف آف آرمی اسٹاف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سمیت پاک فوج کے تمام رینکس نے مرحوم کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔
آئی ایس پی آر کے بیان میں کہا گیا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر اور پاک فوج کے تمام افسران و جوان مرحوم جنرل کے ممتاز عسکری کیریئر، قیادت اور پاک فوج کے لیے ان کی گراں قدر خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ بیان میں سوگوار خاندان سے دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے دعا کی گئی کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کو جنت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور اہل خانہ کو صبر جمیل دے۔
صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیر اعظم شہباز شریف نے بھی جنرل (ر) کاکڑ کے انتقال پر گہرے دکھ کا اظہار کیا۔ صدر زرداری نے سوگوار خاندان سے تعزیت کرتے ہوئے مرحوم کی مغفرت کی دعا کی، جبکہ وزیر اعظم نے پاک فوج کے لیے ان کی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا۔
پانچویں آرمی چیف، 1993 سے 1996 تک کمان
جنرل عبدالوحید کاکڑ پاکستان کے پانچویں آرمی چیف تھے۔ انہوں نے 12 جنوری 1993 سے 12 جنوری 1996 تک پاک فوج کی کمان سنبھالی۔ وہ 23 مارچ 1937 کو پیدا ہوئے، فرنٹیئر فورس رجمنٹ سے وابستہ رہے اور 1965 اور 1971 کی جنگوں میں حصہ لیا۔
ان کے دور کی سب سے یادگار بات 1993 کا آئینی بحران تھا، جب صدر غلام اسحاق خان اور وزیر اعظم نواز شریف کے درمیان کشیدگی ملک کو سیاسی تعطل کی طرف لے جا رہی تھی۔ جنرل کاکڑ نے دونوں کے استعفوں کی راہ ہموار کی، جس کے بعد عام انتخابات ہوئے اور ملک جمہوری عمل کی طرف واپس آیا۔
اصولوں پر قائم کمانڈر
سینئر صحافی حامد میر نے اپنے تعزیتی پیغام میں یاد دلایا کہ ریٹائرمنٹ سے چند ہفتے قبل جنرل کاکڑ کو مدت ملازمت میں توسیع کی پیشکش ہوئی تھی، مگر انہوں نے شائستگی سے اس سے انکار کر دیا تھا۔ حامد میر کے مطابق جنرل کاکڑ نے اپنے دور میں سیاست میں مداخلت کرنے والے افسران کے خلاف بلا امتیاز قانونی و انتظامی کارروائی کی۔
ریٹائرمنٹ کے بعد جنرل کاکڑ نے راولپنڈی میں خاموش زندگی گزاری اور عوامی منظر سے دور رہے۔ ان کا شمار ان کمانڈروں میں ہوتا ہے جن کی پیشہ ورانہ ساکھ اور اصول پسندی کو دوست اور ناقد، دونوں تسلیم کرتے تھے।



