اسٹیٹ بینک نے شرح سود 50 بیسز پوائنٹس بڑھا کر 12 فیصد کر دی، مہنگائی کے دباؤ کا حوالہ

کراچی: اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے شرح سود بڑھانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ مانیٹری پالیسی کمیٹی نے پیر کو کراچی میں ہونے والے اجلاس میں پالیسی ریٹ میں 50 بیسز پوائنٹس کا اضافہ کیا، جس کے بعد شرح سود 11.5 فیصد سے بڑھ کر 12 فیصد ہو گئی ہے۔ نئی شرح منگل 27 اکتوبر سے نافذ ہوگی۔
یہ اپریل کے بعد پہلا اضافہ ہے۔ اس سے پہلے کمیٹی نے جون سے مسلسل تین اجلاسوں میں شرح برقرار رکھی تھی، لیکن اس بار صورتحال بدل گئی۔ کمیٹی کے 10 ارکان میں سے 9 نے اضافے کے حق میں ووٹ دیا — ایک ایسی اکثریت جو بتاتی ہے کہ مہنگائی کے حوالے سے تشویش اب صرف چند ارکان تک محدود نہیں رہی۔ گورنر جمیل احمد نے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس میں فیصلے کا اعلان کیا۔
توانائی کی قیمتیں ہی اصل کہانی ہیں
کمیٹی کے بیان میں وجہ صاف لکھی ہے: مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع اور اس کے قریب حل نہ ہونے کے امکانات نے عالمی سطح پر توانائی کی قیمتیں مسلسل اوپر رکھے ہوئے ہیں۔ خام تیل 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر ہے، اور اس کا بوجھ پاکستان جیسے درآمدی ملک پر سیدھا پڑتا ہے — ٹرانسپورٹ مہنگی ہوتی ہے، بجلی کی لاگت بڑھتی ہے، اور پھر یہ سب اشیا کی قیمتوں میں جھلکتا ہے۔
اعداد بھی اسی کہانی کی تائید کرتے ہیں۔ ستمبر میں سالانہ مہنگائی 10.3 فیصد رہی، جو اگست کے 11.1 فیصد سے کم تو ہے مگر اسٹیٹ بینک کے 5 سے 7 فیصد کے ہدف سے اب بھی خاصی اوپر ہے۔ کمیٹی کا کہنا ہے کہ اگر ابھی قدم نہ اٹھایا جاتا تو یہ دباؤ توقعات میں جم سکتا تھا، اور پھر اسے نکالنا اور مشکل ہو جاتا۔
عام آدمی اور کاروبار پر کیا اثر پڑے گا؟
شرح سود بڑھنے کا مطلب سیدھا ہے: قرض مہنگا ہوگا۔ کاروباری قرضے، گھریلو فنانسنگ اور حکومت کے قرض لینے کی لاگت سب اوپر جائیں گے، اور اس کا اثر آنے والے مہینوں میں قیمتوں اور سرمایہ کاری کے فیصلوں پر نظر آئے گا۔ دوسری طرف، بچت کرنے والوں کو بینک ڈپازٹس پر کچھ بہتر منافع کی امید رکھنی چاہیے۔
گورنر نے معیشت کے حوالے سے بھی اعداد بتائے: رواں مالی سال میں نمو 3.5 سے 4.5 فیصد کے درمیان رہنے کی توقع ہے، برآمدات 32.5 ارب ڈالر اور ترسیلات زر 45 ارب ڈالر تک پہنچنے کا اندازہ ہے، جبکہ درآمدات 71 ارب ڈالر رہنے کا تخمینہ ہے۔ کمیٹی نے واضح کیا کہ بیرونی کھاتے اور نمو کا منظرنامہ مجموعی طور پر برقرار ہے، لیکن دونوں کے خطرات بڑھ گئے ہیں۔
مارکیٹ نے اس فیصلے کی پہلے ہی پیش گوئی کر رکھی تھی — ٹاپ لائن سیکیورٹیز کے سروے میں اکثریت 50 بیسز پوائنٹس اضافے کی توقع کر رہی تھی — اس لیے اصل سوال اب یہ ہے کہ کمیٹی اگلے اجلاس میں کیا کرتی ہے، اور کیا توانائی کی قیمتیں نیچے آتی ہیں یا یہ دباؤ برقرار رہتا ہے۔


