لاہور کی فضا آج دن بھر دنیا کی آلودہ ترین شہروں میں رہی، اے کیو آئی 238 تک جا پہنچا

File photo: Badshahi Mosque seen through haze from Lahore Fort (Wikimedia Commons, CC BY-SA 4.0). The photo shows Lahore in hazy conditions; it is not today's AQI reading.
لاہور میں سانس لینا آج پھر مشکل ہو گیا۔ صبح سے شام تک لائیو ایئر کوالٹی ٹریکرز پر شہر کا نام دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں اوپر نیچے ہوتا رہا — کبھی تیسرا، کبھی دوسرا، اور ایک مانیٹر کے مطابق پہلا نمبر بھی۔ درجہ بندی اس لیے بدلتی رہی کہ یہ اعداد لمحہ بہ لمحہ اپ ڈیٹ ہوتے ہیں، لیکن ایک بات سارا دن نہیں بدلی: لاہور کی ہوا صحت کے لیے خراب سے خطرناک کے درمیان رہی۔
صبح 285، دوپہر میں بھی خطرناک سطح
پنجاب کے ایئر کوالٹی مانیٹر کے مطابق لاہور کا اے کیو آئی صبح چھ بجے 285 تک پہنچ گیا تھا، جو ایک روز پہلے اسی وقت 229 تھا۔ عالمی مانیٹر آئی کیو ایئر نے شہر کا مجموعی انڈیکس 238 ریکارڈ کیا، جبکہ اسی فہرست میں نئی دہلی 214 کے ساتھ دوسرے اور کراچی 166 کے ساتھ پانچویں نمبر پر رہا۔ شہر کے اندر صورتحال کہیں زیادہ خراب تھی — شاہدرہ میں اے کیو آئی 500 تک جا پہنچا، واہگہ بارڈر کے قریب 366، ملتان روڈ پر 335 اور برکی روڈ پر 306 ریکارڈ ہوا۔ دوپہر کے ایک اور جائزے میں مجموعی انڈیکس 199 بتایا گیا، جس میں علامہ اقبال ٹاؤن 299 اور سول سیکرٹریٹ 244 پر تھا۔
بچے، بزرگ اور مریض سب سے زیادہ خطرے میں
ماہرین کے مطابق ایسی ہوا میں آنکھوں میں جلن، کھانسی اور سانس لینے میں دشواری عام ہو جاتی ہے، اور بچوں، بزرگوں اور دل یا سانس کے مریضوں کو سب سے زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے۔ شہریوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ غیر ضروری طور پر باہر نکلنے سے گریز کریں، کھلی فضا میں سخت مشقت نہ کریں اور باہر جانا پڑے تو ماسک ضرور پہنیں۔
بارش کی کوئی امید نہیں
محکمہ موسمیات کے مطابق اگلے 24 گھنٹوں میں لاہور میں بارش کا کوئی امکان نہیں۔ درجہ حرارت 22 ڈگری کے آس پاس رہا، زیادہ سے زیادہ 30 اور کم سے کم 17 ڈگری کی پیش گوئی ہے، جبکہ ہوا کی رفتار صرف تین کلومیٹر فی گھنٹہ رہی — یعنی آلودگی کے بکھرنے کی گنجائش بھی کم ہے۔ پنجاب کے دیگر شہروں میں بھی ہوا خراب رہی، پاکپتن میں 210 اور ملتان میں 204 ریکارڈ ہوا، جو بتاتا ہے کہ یہ صرف لاہور کا نہیں، پورے خطے کا مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔



