بدھ, 28 اکتوبر 2026
بدھ, 28 اکتوبر 2026|
تازہ ترین
صحت

بلوچستان کے ڈاکٹروں کا یکم نومبر سے صوبہ گیر ہڑتال کا اعلان

News Cuff

File photo of a hospital in Quetta. This is not a photograph from the strike announcement.

کوئٹہ — پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن (پی ایم اے) بلوچستان نے یکم نومبر سے صوبے بھر میں ڈاکٹروں کی ہڑتال کی مکمل حمایت کا اعلان کر دیا ہے۔ ایسوسی ایشن کا موقف ہے کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) اور بلوچستان ریونیو اتھارٹی (بی آر اے) کی جانب سے ڈاکٹروں پر عائد کیے گئے ٹیکس ناانصافی پر مبنی ہیں، اور یہ احتجاج انہی ٹیکسوں کے خلاف کیا جا رہا ہے۔

فیصلہ ڈاکٹروں کی مختلف تنظیموں کے مشترکہ اجلاس میں ہوا، جس کی صدارت پی ایم اے کے جنرل سیکریٹری ڈاکٹر زارک محمد شاہی نے کی۔ اجلاس میں صوبائی محکمہ صحت سے جڑے دیگر اہم مسائل پر بھی گفتگو ہوئی۔ تاہم اب تک یہ واضح نہیں کیا گیا کہ یکم نومبر کی ہڑتال کے دوران کون سی خدمات بند رہیں گی اور کون سی جاری رہیں گی — اس بارے میں ایسوسی ایشن کی مزید وضاحت کا انتظار ہے۔

یہ اعلان اچانک نہیں ہوا

ڈاکٹروں اور ٹیکس حکام کے درمیان یہ تنازعہ مہینہ بھر سے چل رہا ہے۔ اکتوبر کے شروع میں ڈاکٹروں نے ایک روزہ ہڑتال کی تھی، جس کے دوران سندھ، پنجاب، خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے کئی شہروں میں نجی او پی ڈیز اور کلینک بند رہے تھے، اور کوئٹہ میں بولان میڈیکل کمپلیکس کے باہر مظاہرہ ہوا تھا۔ اس وقت ڈاکٹروں نے طبی خدمات پر پوائنٹ آف سیل نظام اور سیکشن 175 سی کے تحت جرمانوں پر اعتراض کیا تھا، اور خبردار کیا تھا کہ نجی ہسپتالوں، لیبارٹریوں اور کلینکوں پر ٹیکس سے علاج کی قیمت بڑھے گی اور بوجھ عوام پر پڑے گا۔

ملک گیر دباؤ بھی بڑھ رہا ہے

گجرات میں ہونے والے آل پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کنونشن میں بھی یکم نومبر کی تاریخ دی گئی تھی — اگر مطالبات نہ مانے گئے تو ملک بھر میں مرحلہ وار ہڑتال کی دھمکی دی گئی تھی۔ اس تنازعے میں صرف ٹیکس ہی نہیں، بلکہ صحت کے ضوابط کا نفاذ، ہسپتالوں کے دوروں کے دوران انتظامی افسران کا رویہ، اور نوجوان ڈاکٹروں کی ملازمت و تربیت کے حقوق بھی شامل ہیں۔ بلوچستان میں ڈاکٹروں کو ایک اور شکایت بھی ہے: حاضری کا اے آئی پر مبنی نظام، جو ان کے بقول صوبے کی زمینی حقیقتوں سے میل نہیں کھاتا۔

مریضوں کے لیے اس کا مطلب کیا ہے

فی الحال مریضوں کے لیے سب سے اہم سوال یہی ہے کہ یکم نومبر کو کیا کھلا رہے گا اور کیا بند ہوگا۔ پچھلی ایک روزہ ہڑتال میں سرکاری ہسپتالوں کی ایمرجنسی، انتہائی نگہداشت اور دل کے وارڈز چلتے رہے تھے، لیکن یہ پرانا تجربہ ہے، نئی ہڑتال کا وعدہ نہیں۔ بلوچستان کے مریضوں، خاص طور پر دور دراز علاقوں سے کوئٹہ آنے والوں کو، یکم نومبر سے پہلے ایسوسی ایشن اور محکمہ صحت کی مزید وضاحتوں پر نظر رکھنی چاہیے۔

قرآن مجید اردو ترجمے کے ساتھ پڑھیںنماز کے اوقات • رمضان کیلنڈر • قرآنی دعائیں

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے