ٹرائی سیریز فائنل سے قبل ہیڈ کوچ مائیک ہیسن پراعتماد: پاکستان اپنا بہترین کھیل فائنل کے لیے بچا رہا ہے

لاہور میں ہفتے کو کھیلے جانے والے ٹرائی سیریز فائنل سے قبل پاکستان کے ہیڈ کوچ مائیک ہیسن نے واضح کر دیا ہے کہ ان کی ٹیم نے ابھی اپنا بہترین کھیل دکھایا ہی نہیں۔ ان کے بقول گرین شرٹس کی اصل کارکردگی فائنل میں سامنے آئے گی، جہاں سری لنکا کے خلاف ٹائٹل کا فیصلہ ہوگا۔
فائنل ہفتے، 31 اکتوبر کو لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں کھیلا جائے گا۔ میچ دوپہر ایک بجے شروع ہوگا اور ٹاس ساڑھے بارہ بجے ہوگا۔ پاکستان نے فائنل میں جگہ تین مسلسل فتوحات کے ساتھ بنائی تھی، جبکہ سری لنکا نے لیگ مرحلے کے آخری میچ میں میزبان ٹیم کو آٹھ وکٹوں سے ہرا کر اعتماد حاصل کیا۔
ہیڈ کوچ کا پیغام: بہترین کھیل ابھی باقی ہے
لاہور کرکٹ ایسوسی ایشن گراؤنڈ میں ٹریننگ کے دوران پی سی بی ڈیجیٹل سے گفتگو میں ہیسن نے کہا کہ ٹیم نے گزشتہ دو ہفتوں میں اچھی کرکٹ کھیلی ہے، مگر مکمل نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ چند اہم کھلاڑیوں کی بڑی اننگز کے بغیر بھی تین میچ جیتنا ٹیم کی گہرائی کی علامت ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ فائنل میں ٹیم اپنی بہترین کارکردگی دکھائے گی۔
ٹاپ آرڈر کی پریشانی، سینئرز پر بھروسہ
پاکستان کا ٹاپ آرڈر اس سیریز میں مشکلات کا شکار رہا ہے۔ فخر زمان چار اننگز میں صرف 31 رنز بنا سکے، جبکہ سابق کپتان بابر اعظم نے اتنے ہی میچوں میں 118 رنز بنائے۔ صائم ایوب 21 رنز کے بعد اپنی درخواست پر اسکواڈ سے الگ ہو گئے اور ان کی جگہ صاحبزادہ فرحان کو شامل کیا گیا۔ اس کے باوجود ہیسن سینئر بیٹرز کے حق میں کھڑے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ فخر اور بابر پاکستان کی تاریخ کے دو عظیم کھلاڑیوں میں شمار ہوتے ہیں اور بڑے میچوں میں بڑے کھلاڑی ہی سامنے آتے ہیں۔
سیریز کا سفر: تین جیت، پھر ایک شکست
پاکستان نے سیریز کا آغاز راولپنڈی میں سری لنکا کے خلاف 37 رنز کی جیت سے کیا، پھر انگلینڈ کو 87 رنز سے ہرایا۔ قذافی اسٹیڈیم میں انگلینڈ کے خلاف ایک وکٹ کی سنسنی خیز جیت میں شاداب خان کی ناقابل شکست سنچری فیصلہ کن رہی۔ تاہم آخری لیگ میچ میں پاکستان صرف 110 رنز پر ڈھیر ہو گیا اور سری لنکا نے ہدف 30 سے زیادہ اوورز قبل حاصل کر لیا۔ ہیسن نے اس شکست کو تسلیم کیا، مگر ان کا اصرار ہے کہ فائنل ایک نیا میچ ہوگا۔
مڈل آرڈر ہی ٹیم کی طاقت
ہیسن نے مڈل آرڈر کی تعریف میں کوئی کمی نہیں چھوڑی۔ سلمان علی آغا نے سری لنکا کے خلاف پہلے میچ میں 90 گیندوں پر 107 رنز بنائے، جبکہ حسن نواز نے انگلینڈ کے خلاف 79 رنز کی اننگز کھیلی۔ ہیڈ کوچ کے بقول سلمان پانچویں یا اس سے نیچے نمبر پر بیٹنگ کرتے ہوئے کسی بھی پاکستانی کھلاڑی سے زیادہ سنچریاں بنا چکے ہیں۔ ہیسن گزشتہ سال وائٹ بال کوچ بننے کے بعد 19 ون ڈے میں 12 فتوحات حاصل کر چکے ہیں، اور اب ان کی نظریں اس سیریز کی ٹرافی پر ہیں۔


