رومانیہ کے سفیر کا انتباہ: جی ایس پی پلس برقرار رکھنے کے لیے پاکستان کو مزید کام کرنا ہوگا

اسلام آباد میں رومانیہ کے سفیر ڈاکٹر ڈین اسٹوینیسکو نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ پاکستان کو یورپی یونین کی جی ایس پی پلس سہولت برقرار رکھنے کے لیے مزید محنت کرنا ہو گی۔ نیشنل پریس کلب میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ رومانیہ اور یورپی یونین، دونوں پاکستان کے انسانی حقوق کے ریکارڈ اور جی ایس پی پلس کے تحت وعدوں پر عمل درآمد کو قریب سے دیکھ رہے ہیں۔ ان کے بقول پاکستان نے اس میدان میں کچھ مثبت قدم ضرور اٹھائے ہیں، مگر یہ کافی نہیں، اور یورپی یونین کا نگران مشن اس وقت ملک کی کارکردگی کا بغور جائزہ لے رہا ہے۔
سفیر سے جب یہ پوچھا گیا کہ کیا رومانیہ جنوری 2027 کے بعد بھی پاکستان کی اس ترجیحی تجارتی سہولت کی حمایت کرے گا، تو انہوں نے کوئی حتمی جواب دینے سے گریز کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ حتمی جائزہ یورپی یونین ہی لے گی، اور اس وقت نگرانی کا عمل جاری ہے، اس لیے نتیجے کے بارے میں پہلے سے کچھ کہنا مناسب نہیں ہو گا۔ یہی وہ نکتہ ہے جس نے اس پریس بریفنگ کو محض ایک رسمی ملاقات سے آگے بڑھا کر ایک واضح پیغام بنا دیا ہے۔
جی ایس پی پلس کیا ہے اور پاکستان کے لیے کیوں اہم ہے
جی ایس پی پلس کے تحت پاکستان کی برآمدات کو یورپی منڈی میں ترجیحی رسائی ملتی ہے، اور یہ سہولت انسانی حقوق، مزدوروں کے حقوق، ماحولیات اور طرز حکمرانی سے متعلق بین الاقوامی معاہدوں پر عمل درآمد سے مشروط ہے۔ یورپی یونین پاکستان کی سب سے بڑی برآمدی منزل ہے، اس لیے اس سہولت کا مستقبل براہ راست ملکی معیشت سے جڑا ہوا ہے۔ سفیر نے کہا کہ سیاسی انتقام، میڈیا پر پابندیوں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات سمیت کئی خدشات اب بھی زیر بحث ہیں۔
تجارت صرف 156 ملین ڈالر، گنجائش کہیں زیادہ
دو طرفہ تجارت کا حجم اس وقت تقریباً 156 ملین ڈالر ہے، جو سفیر کے بقول دونوں ملکوں کی اصل صلاحیت کی عکاسی نہیں کرتا۔ انہوں نے بتایا کہ فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کا ایک وفد دسمبر میں رومانیہ جائے گا، جہاں ٹیکنالوجی، زراعت اور لاجسٹکس کے شعبوں میں مواقع تلاش کیے جائیں گے، جب کہ 2027 کے اوائل میں سرکاری وفود کے تبادلے بھی طے ہیں۔ بحیرہ اسود سے ڈینیوب دریا اور پھر رائن مین نہر کے ذریعے روٹرڈیم کی بندرگاہ تک براہ راست ترسیل کا راستہ بھی زیر غور ہے، جس سے تجارت کو نئی رفتار مل سکتی ہے۔



