اتوار, 1 نومبر 2026
اتوار, 1 نومبر 2026|
تازہ ترین
طرز زندگی

راولپنڈی میں گیس صرف چھ گھنٹے رہ گئی، گھروں میں لکڑی اور کوئلے کا دور واپس آ گیا

News Cuff

فائل تصویر: گھریلو ایندھن کے لیے لکڑی کا ڈھیر — راولپنڈی میں گیس کی کمی کے باعث کئی گھرانے دوبارہ لکڑی اور کوئلے پر انحصار کر رہے ہیں۔

راولپنڈی — سردیوں کی آمد کے ساتھ ہی راولپنڈی کے کئی گھروں میں چولہا جلانا ایک بار پھر محنت طلب کام بن گیا ہے۔ شہر میں سوئی گیس دن بھر میں صرف چھ گھنٹے کے قریب مل رہی ہے، اور باقی وقت گھرانوں کو خود ہی کوئی بندوبست کرنا پڑتا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ کم اور درمیانی آمدنی والے خاندان، سڑک کنارے کھانے کے ٹھیلے اور چھوٹے تندور ایک بار پھر لکڑی، کوئلے اور مٹی کے تیل کی طرف لوٹ آئے ہیں۔

گیس تین وقفوں میں، رات نو بجے کے بعد بند

شہر میں گیس کی فراہمی دن میں تین بار، ہر بار دو گھنٹے کے لیے کی جا رہی ہے۔ رات نو بجے سے سحری تک بجلی کی طرح گیس کی بندش بھی معمول بن چکی ہے، جس سے شام کا کھانا پکانا سب سے مشکل کام بن گیا ہے۔ مجموعی طور پر شہر میں روزانہ 18 سے 20 گھنٹے گیس کی لوڈ مینجمنٹ جاری ہے۔

لکڑی اور کوئلے کے نرخ بھی چڑھ گئے

مانگ بڑھتے ہی لکڑی اور کوئلے کے نرخ بھی اوپر چلے گئے ہیں۔ کھلی منڈی میں کوئلہ 800 سے 1000 روپے فی من میں مل رہا ہے، خشک لکڑی 1500 سے 1800 روپے فی من اور عام لکڑی 1300 سے 1400 روپے فی من تک پہنچ گئی ہے۔ برادہ بھی 700 روپے فی من ہو گیا ہے۔ فرنیچر کی فیکٹریوں کا بچا ہوا لکڑی کا کچرا، جو پہلے نالہ لئی کے کنارے پھینک دیا جاتا تھا، اب لوگ اٹھا کر لے جا رہے ہیں۔

سلنڈر بھی ہر کسی کی پہنچ سے باہر

گیس کی کمی نے سلنڈروں کی مانگ بھی بڑھا دی ہے، اور ان کی قیمتیں بھی چڑھ گئی ہیں۔ نیا گھریلو سلنڈر 10 ہزار سے بڑھ کر 13 ہزار 500 روپے کا ہو گیا ہے، جب کہ استعمال شدہ سلنڈر 8 سے 10 ہزار روپے میں مل رہا ہے۔ گھریلو سلنڈر بھروانے کی قیمت 3 ہزار سے بڑھ کر 5 ہزار روپے ہو گئی ہے، اور کمرشل سلنڈر کی ری فل 25 ہزار روپے تک جا پہنچی ہے، جو ایک سال پہلے 12 سے 14 ہزار روپے تھی۔

ملازمین کی تنخواہ کا بڑا حصہ اب ایندھن میں

آل پاکستان کلرکس ایسوسی ایشن کے ڈویژنل صدر شہزاد منظور کیانی کا کہنا ہے کہ مہنگائی نے لکڑی اور کوئلے کا دور واپس لا دیا ہے۔ ان کے مطابق کلرک اور نچلے درجے کے سرکاری ملازمین کے گھروں میں ایل پی جی کا ماہانہ خرچ 10 سے 12 ہزار روپے تک پہنچ گیا ہے، اس لیے وہ مجبوراً لکڑی پر آ گئے ہیں۔ اساتذہ کے نمائندوں نے بتایا کہ کئی گھر دن میں سلنڈر اور شام کو لکڑی استعمال کر رہے ہیں — یعنی ایک گھر، دو ایندھن۔

شہریوں کا شکوہ یہ بھی ہے کہ قیمتوں پر قابو پانے والے مجسٹریٹ اور پنجاب انفورسمنٹ اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی کی ٹیمیں منافع خوری نہیں روک پا رہیں، حالانکہ حکومت ریلیف کے دعوے کر رہی ہے۔ سردی ابھی شروع ہوئی ہے، اور اگر گیس کی یہی صورتحال رہی تو لکڑی کی مانگ اور قیمتیں دونوں مزید بڑھ سکتی ہیں۔

قرآن مجید اردو ترجمے کے ساتھ پڑھیںنماز کے اوقات • رمضان کیلنڈر • قرآنی دعائیں

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے