پاکستان نے افغان طالبان کو خبردار کر دیا: دہشت گردی ریڈ لائن ہے، ہماری سلامتی یرغمال نہیں بن سکتی

File photo: the Pakistan-Afghanistan border crossing at Torkham — not Angoor Adda.
اسلام آباد نے کابل کو ایک بار پھر، اور اس بار پہلے سے زیادہ سخت لفظوں میں، بتا دیا ہے کہ اس کی برداشت کی ایک حد ہے۔ وزارت اطلاعات و نشریات نے ہفتے کو جاری کیے گئے بیان میں افغان طالبان کی قیادت پر الزام لگایا کہ وہ پاکستان کے ساتھ تعلقات کی خرابی کی اصل وجہ سے آنکھیں چرا رہی ہے، اور دوٹوک کہا کہ دہشت گردی پاکستان کے لیے ریڈ لائن ہے، جس پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو گا۔
بیان میں کیا کہا گیا
بیان افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کے تازہ بیان کا جواب تھا۔ مجاہد نے حریت ریڈیو کو انٹرویو میں کہا تھا کہ پاکستان بات چیت کے ذریعے اختلافات ختم کرنے کے لیے تیار نہیں، اور کشیدگی کم کرنے کی کوششیں اب تک ناکام رہی ہیں۔ وزارت اطلاعات نے اسے طالبان حکومت کا "شدید گمراہ کن رویہ” قرار دیا اور کہا کہ کابل کی قیادت اسلام آباد کی پالیسیوں پر الزام لگا کر اس ایک حقیقت سے نظریں چرا رہی ہے جو تعلقات کو زہر آلود کر رہی ہے: افغان سرزمین سے دہشت گردی کا نہ رکنا۔
بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ پاکستان اپنی سرحدوں کے پار دہشت گردوں کی پناہ گاہیں برداشت نہیں کرے گا، اور بین الاقوامی قانون کے مطابق اپنی سلامتی کے لیے ہر ضروری قدم اٹھانے کا حق محفوظ رکھتا ہے، چاہے خطرہ کہیں سے بھی آئے۔ آخری سطر سب سے زیادہ توجہ کھینچ رہی ہے: "پاکستان کی سلامتی افغان طالبان کی نااہلی، ٹال مٹول یا غلط ترجیحات کی یرغمال نہیں بن سکتی۔” کابل کو یہ بھی یاد دلایا گیا کہ اپنے عوام کی حفاظت کے عزم کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔
امریکہ کا ردعمل
اسی دن اٹلانٹا میں جی 20 وزرائے خارجہ کے اجلاس کے اختتام پر امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھی پاکستان کے موقف کی تائید کی۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان کو تشویش ہے کہ افغان سرزمین سے دہشت گرد حملے ہو رہے ہیں، اور طالبان ان حملوں کو روکنے کے لیے کافی کچھ نہیں کر رہے۔ "ہم نے ان کے تحفظات سن لیے ہیں، اور ہم واضح طور پر نہیں چاہتے کہ انھیں دہشت گردی کا نشانہ بنایا جائے،” روبیو نے کہا، اور یہ بھی کہ اگر امریکہ اس کشیدگی میں کوئی مثبت کردار ادا کر سکتا ہے تو ضرور کرے گا۔
پس منظر
یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب سرحد پر کشیدگی پھر بڑھ رہی ہے۔ وزارت اطلاعات نے 24 اکتوبر کو بھی اقوام متحدہ اور امریکی جائزوں کا حوالہ دے کر طالبان حکومت سے تحریک طالبان پاکستان اور بلوچستان لبریشن آرمی کے خلاف قابل تصدیق کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔ پاکستانی حکام کے اعداد کے مطابق رواں برس افغان سرزمین سے ہونے والی دہشت گردی میں 1,327 پاکستانی جان سے گئے اور 2,484 زخمی ہوئے۔ اسلام آباد کا پیغام اب ایک ہی جملے میں سمٹ آیا ہے: الزام تراشی سے بحران حل نہیں ہو گا، ذمہ داری کابل کو ہی اٹھانی ہو گی۔



