بدھ, 4 نومبر 2026
بدھ, 4 نومبر 2026|
تازہ ترین
کاروبار

حکومت کی نئی ایل پی جی پالیسی منظور: سرکاری کمپنیاں درآمد کریں گی، مستحق صارفین کو سستی گیس ملے گی

News Cuff

ایل پی جی سلنڈر کی فائل تصویر — یہ کسی خاص کمپنی یا دکان کی تصویر نہیں ہے۔

اسلام آباد: سردیوں سے پہلے گیس کے بحران سے نمٹنے کے لیے وفاقی کابینہ نے نئی ایل پی جی پالیسی منظور کر لی ہے۔ اس پالیسی کے تحت چار سرکاری کمپنیاں دوبارہ ایل پی جی کی درآمد شروع کریں گی، مقامی گیس کی تقسیم کا پرانا کوٹہ نظام ختم ہو جائے گا، اور بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے مستحق صارفین کو رعایتی نرخ پر گیس دی جائے گی۔ وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے منگل کو پی ٹی وی ہیڈکوارٹرز میں پریس کانفرنس میں اس فیصلے کا اعلان کیا، جہاں ان کے ساتھ وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ بھی موجود تھے۔

چار سرکاری کمپنیاں میدان میں واپس
علی پرویز ملک کے مطابق پاکستان اسٹیٹ آئل، پاکستان ایل این جی لمیٹڈ، سوئی سدرن گیس کی ایل پی جی کمپنی اور پارکو ایل پی جی کو حکومتی سطح پر اور کاروباری معاہدوں کے ذریعے بڑی مقدار میں ایل پی جی خریدنے کی ہدایت کر دی گئی ہے۔ ان کمپنیوں کو سعودی عرب اور عمان سے سپلائی کی پیشکشیں پہلے ہی موصول ہو چکی ہیں۔ مقصد سیدھا ہے: مارکیٹ میں مقابلہ پیدا ہو، سپلائی بڑھے اور چند نجی کمپنیوں کی اجارہ داری ٹوٹے۔

کوٹے کی جگہ شفاف نیلامی
پالیسی کا دوسرا بڑا حصہ مقامی پیداوار سے متعلق ہے۔ اب تک مقامی ایل پی جی کوٹوں کے ذریعے تقسیم ہوتی تھی، جس پر شفافیت کے سوال اٹھتے رہے ہیں۔ نئے نظام میں مقامی گیس پانچ اور دس ٹن کی لاٹوں میں نیلام کی جائے گی اور نیلامی کے نتائج سب کے سامنے رکھے جائیں گے۔ مشکل اور دور دراز علاقوں کے لیے مقامی پیداوار کا دس فیصد حصہ سرکاری کمپنیوں کے ذریعے صوبوں کی مشاورت سے تقسیم ہوگا۔

مستحق صارفین کے لیے 300 سے 350 روپے فی کلو
وزیر پیٹرولیم نے بتایا کہ وزیراعظم کی ہدایت پر بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے معیار پر پورا اترنے والے صارفین کو 300 سے 350 روپے فی کلو کے حساب سے گیس دی جائے گی۔ اس رعایت کی رقم ایک نئے فنڈ سے پوری ہوگی، جس میں درآمدی قیمت اور مقامی گیس کی نیلامی سے حاصل ہونے والی اضافی آمدن جمع ہوگی۔ یہ بات بھی قابل غور ہے کہ یہ رعایتی نرخ بھی اوگرا کے نومبر کے مقرر کردہ زیادہ سے زیادہ 294 روپے 8 پیسے فی کلو سے زیادہ ہے — یعنی مارکیٹ اس وقت سرکاری نرخ سے کتنی آگے نکل چکی ہے، اس کا اندازہ اسی سے لگایا جا سکتا ہے۔

قیمتیں کیوں بگڑیں
اس بحران کی جڑ درآمدی لاگت میں ہے۔ سعودی آرامکو کی کنٹریکٹ قیمت مارچ میں 540 ڈالر فی ٹن تھی، جو اب 756 ڈالر تک پہنچ چکی ہے، اور اس پر اسپاٹ مارکیٹ کا پریمیم بھی 300 سے 400 ڈالر فی ٹن تک ہے۔ اسی لیے اسپاٹ مارکیٹ سے لائی گئی گیس کی پوری لاگت 450 سے 500 روپے فی کلو بنتی ہے، جب کہ بعض شہروں میں دکاندار 600 سے 700 روپے فی کلو تک وصول کر رہے ہیں۔ پرانی 2016 کی پالیسی میں درآمدی اخراجات کا حساب ہی شامل نہیں تھا، اس لیے سپلائی غیر رسمی راستوں کی طرف مڑ گئی۔ پاکستان سالانہ تقریباً 24 لاکھ ٹن ایل پی جی استعمال کرتا ہے، جس کا نصف سے زیادہ حصہ درآمد کرنا پڑتا ہے۔

بجلی کی قیمت میں بھی اضافے کی تجویز
اسی خبر کا ایک الگ حصہ بجلی سے متعلق ہے۔ پاور ڈویژن نے نیپرا کی عوامی سماعت میں جنوری تا دسمبر 2027 کے لیے بجلی کی خریداری کی قیمت کے چھ منظرنامے پیش کیے ہیں، جن میں فی یونٹ تقریباً 2 سے 4 روپے اضافے کی گنجائش نکالی گئی ہے۔ سالانہ خریداری کی لاگت کا تخمینہ 3.4 سے 3.8 کھرب روپے کے درمیان ہے۔

قرآن مجید اردو ترجمے کے ساتھ پڑھیںنماز کے اوقات • رمضان کیلنڈر • قرآنی دعائیں

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے