بدھ, 4 نومبر 2026
بدھ, 4 نومبر 2026|
تازہ ترین
سیاست

جے ڈی وینس: ’ہماری شکست کی وجہ ایران جنگ ہے‘ — مڈٹرم نتائج پر ٹرمپ سے کھلا اختلاف

News Cuff

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی سرکاری تصویر (فائل فوٹو)۔

واشنگٹن: امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے مڈٹرم انتخابات میں اپنی پارٹی کی شکست کی ذمہ داری ایران جنگ پر ڈال دی ہے۔ بدھ کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک طویل تحریر میں انہوں نے صاف لکھا، ’ہماری شکست کی وجہ جنگ ہے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ اگر کوئی یہ دلیل دینا چاہے کہ سینیٹ اگلے چھ برس کے لیے ہاتھ سے جانا اس جنگ کی قیمت کے طور پر درست تھا، تو وہ یہ دلیل دے — مگر حقیقت سے منہ نہیں موڑا جا سکتا۔ یہ بیان منگل کی رات ڈیموکریٹس کے کانگریس کے دونوں ایوانوں پر قبضے کے چند گھنٹے بعد سامنے آیا، اور اس نے واشنگٹن میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

وینس نے کیا کہا؟

وینس کے مطابق مسئلہ یہ نہیں کہ ریپبلکن ووٹر گھر بیٹھے رہے۔ انہوں نے ایک پولسٹر کا حوالہ دیا جس نے بتایا کہ 2024 میں ٹرمپ کو ووٹ دینے والے بہت سے لوگ اس بار ڈیموکریٹس کی طرف چلے گئے، اور ان سے پوچھا گیا کہ انہیں واپس کیا لا سکتا ہے۔ جو چار جواب سب سے زیادہ آئے، وہ یہ تھے: جنگ ختم کرو، مہنگائی اور رہن سہن کی قیمت پر توجہ دو، ’امریکہ فرسٹ‘ ایجنڈے پر واپس آؤ، اور اسرائیل سے تعلق بدلو۔ وینس نے یہ بھی لکھا کہ جنگ ختم کرنے کی پہلے دی گئی سفارش ’درست مشورہ‘ تھی، اور یہ کہ ’سب جانتے ہیں ہم کیوں ہارے۔‘ ساتھ ہی انہوں نے یہ کہنے کی کوشش کی کہ ٹرمپ سے ان کا کوئی اختلاف نہیں — صدر نے بھی گزشتہ رات تسلیم کیا تھا کہ جنگ نے نقصان پہنچایا۔

ٹرمپ کا جواب بالکل مختلف

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا لہجہ کہیں زیادہ محتاط اور کہیں زیادہ سخت، دونوں تھا۔ انہوں نے وال اسٹریٹ جرنل سے کہا کہ جنگ ان کی نظر میں درست تھی: ’میں نے درست کام کیا۔ میں دوبارہ بھی یہی کروں گا۔‘ ان کے نزدیک ایران جنگ شکست کی صرف ایک وجہ تھی، واحد وجہ نہیں۔ فاکس نیوز سے گفتگو میں انہوں نے نتائج کو اپنی ذات پر حملہ ماننے سے انکار کیا اور کہا کہ امیدوار ووٹروں کو نکالنے میں ناکام رہے — ’میں بیلٹ پر نہیں تھا۔ اگر میں بیلٹ پر ہوتا تو لوگ نکل آتے۔‘ یہی وہ فرق ہے جس نے وینس کے بیان کو خبر بنا دیا: نائب صدر نے جنگ کو شکست کی وجہ کہا، صدر نے اسے صرف ایک حصہ کہا اور جنگ کا دفاع جاری رکھا۔

اس بیان کی قیمت کیا ہو سکتی ہے؟

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق وینس کا بیان ایسے وقت آیا ہے جب ٹرمپ اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ آیا ایران کے خلاف بڑی فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کی جائیں یا نہیں — امریکی حکام کے مطابق یہ آپشن ابھی زیر غور ہے۔ وینس، جو ایران سے مذاکرات میں کلیدی کردار ادا کر چکے ہیں اور 2028 کے صدارتی امیدوار کے طور پر دیکھے جا رہے ہیں، اب تک انتظامیہ کے دیگر رہنماؤں کے مقابلے میں ایران کے معاملے میں نرم لہجہ رکھتے آئے ہیں۔ الجزیرہ کے مطابق یہ ان کا اپنے باس سے عوامی طور پر سب سے زیادہ کھلا اختلاف ہے۔ جنگ اب اپنے نویں مہینے میں ہے، اور اس نے توانائی کی قیمتیں بڑھا کر عام امریکیوں کی زندگی مشکل کر دی ہے — وہی مہنگائی جو ووٹروں کی سب سے بڑی شکایت تھی۔ ڈیموکریٹس کا نیا کانگریس جنوری میں اقتدار سنبھالے گا، اور تب تک یہ بحث — جنگ جاری رکھنی ہے یا ختم کرنی ہے — ریپبلکن پارٹی کے اندر ہی سب سے تیز ہو گی۔

قرآن مجید اردو ترجمے کے ساتھ پڑھیںنماز کے اوقات • رمضان کیلنڈر • قرآنی دعائیں

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے