ملتان پاکستان کا سب سے آلودہ شہر بن گیا، ایئر کوالٹی انڈیکس 492 تک پہنچ گیا

فائل فوٹو: ملتان کا گھنٹہ گھر چوک — ہفتہ کو ملتان پاکستان کا سب سے آلودہ شہر بن گیا جہاں ایئر کوالٹی انڈیکس 492 ریکارڈ ہوا (تصویر: اب باسط / ویکیمیڈیا کامنز)
ملتان: پنجاب میں سردیوں کے آغاز کے ساتھ ہی فضائی آلودگی نے ایک بار پھر سر اٹھا لیا ہے، اور ہفتہ کو ملتان ملک کا سب سے آلودہ شہر بن گیا جہاں ایئر کوالٹی انڈیکس 492 ریکارڈ کیا گیا۔ رائے ونڈ میں انڈیکس 316، رحیم یار خان میں 304، فیصل آباد میں 287 اور لاہور میں 273 رہا۔ بھارتی دارالحکومت نئی دہلی 539 کے ساتھ دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں پہلے نمبر پر ہے، جبکہ لاہور دنیا بھر میں دوسرے نمبر پر ہے۔
دھواں، دھند اور سرد ہوا کا امتزاج
سموگ دھند اور آلودگی کے امتزاج سے بنتی ہے۔ کم درجے کے ڈیزل کا دھواں، فصلوں کی باقیات جلانا اور درجہ حرارت میں کمی اس کی بڑی وجوہات ہیں۔ گزشتہ برسوں میں بھی پنجاب کی حکومت نے سموگ سے نمٹنے کے لیے اسکول بند کیے اور بازاروں اور کھانے پینے کی جگہوں کے اوقات محدود کیے تھے۔ ایک موقع پر لاہور میں فضائی آلودگی عالمی ادارہ صحت کے مقرر کردہ معیار سے 80 گنا زیادہ ریکارڈ ہوئی تھی۔
لاہور میں کارروائیاں: پانچ فیکٹریاں سیل، تین بھٹے مسمار
وزیراعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ماحولیاتی قوانین کی خلاف ورزیوں کے خلاف کارروائیاں تیز کر دی گئی ہیں۔ لاہور میں سموگ گنز چلائی جا رہی ہیں اور سڑکوں پر پانی کا چھڑکاؤ کیا جا رہا ہے۔ حکام نے لاہور میں 258 صنعتی یونٹوں کا معائنہ کیا، پانچ کو سیل کر دیا اور ایک کروڑ تین لاکھ روپے جرمانے عائد کیے۔ اسی طرح 452 اینٹوں کے بھٹوں کا معائنہ کیا گیا، تین کو مسمار اور چار کو سیل کر دیا گیا جبکہ چار کے خلاف مقدمات درج کر کے سات لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا گیا۔ پلاسٹک کے استعمال کے خلاف کارروائی میں 153 مقامات کا معائنہ کیا گیا، تین کو سیل کیا گیا اور 1,462 کلوگرام پلاسٹک ضبط کر کے 65 ہزار روپے جرمانہ عائد کیا گیا۔
کسانوں سے پرالی نہ جلانے کی اپیل
پنجاب کی سینئر وزیر مریم اورنگزیب نے کسانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ فصلوں کی باقیات نہ جلائیں اور شہری اپنی گاڑیوں کو فٹنس کے معیار پر پورا اتارنے کو یقینی بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ گاڑیوں سے نکلنے والا دھواں انسانی صحت اور ماحول دونوں کے لیے نقصان دہ ہے۔
شہری کیا کریں
ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ آلودگی کے دوران شہری طویل دیر تک باہر رہنے سے گریز کریں، کھڑکیاں بند رکھیں اور باہر نکلتے وقت ماسک پہنیں۔ سموگ کا موسم عموماً نومبر میں اپنے عروج پر ہوتا ہے، جب ہوا کی رفتار کم ہو جاتی ہے اور آلودہ ذرات زمین کے قریب پھنس جاتے ہیں۔



