محمند میں پولیو ٹیم کی حفاظت پر مامور دو پولیس اہلکار شہید، تیسرا زخمی

پاکستان میں بچے کو پولیو کے قطرے پلاتے ہوئے صحت کارکن، فائل فوٹو۔ (یہ تصویر آج کے حملے کی نہیں، ویکسینیشن کی فائل فوٹو ہے۔)
محمند: خیبر پختونخوا کے ضلع محمند میں منگل کو پولیو ٹیموں کی حفاظت پر جانے والے پولیس اہلکاروں پر موٹر سائیکل سواروں نے فائرنگ کر دی، جس سے دو اہلکار شہید اور ایک زخمی ہو گیا۔ ضلعی پولیس افسر رضا محمد خان نے بتایا کہ حملہ تمازئی کے علاقے میں ہوا، جو پنڈیالی تھانے کی حدود میں آتا ہے، اور اس وقت ہوا جب اہلکار گاؤں میں ویکسینیشن ٹیموں کی حفاظت کے لیے جا رہے تھے۔
شہید اور زخمی اہلکار
شہید ہونے والے اہلکاروں کی شناخت کانسٹیبل ظہور اور کانسٹیبل عربی کے نام سے ہوئی ہے، جبکہ زخمی اہلکار صابر کو اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق فائرنگ کے تبادلے میں ایک حملہ آور بھی زخمی ہوا، اور واقعے کے بعد علاقے میں سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔ حملے کی ذمہ داری تاحال کسی گروپ نے قبول نہیں کی ہے۔
ٹانک میں چار کارکنان اغوا
یہ حملہ ایسے وقت ہوا ہے جب ایک روز قبل ٹانک میں نامعلوم مسلح افراد نے ویکسینیشن ٹیم کے چار ارکان کو اغوا کر لیا تھا۔ حکام کے مطابق ان کی بازیابی کی کوششیں جاری ہیں، جبکہ جنوبی وزیرستان زیریں میں اغوا کیے گئے ویکسینیشن ٹیم کے دو ارکان کو بعد میں رہا کر دیا گیا۔ صدر آصف علی زرداری اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے محمند حملے کی مذمت کی ہے؛ نقوی نے کہا کہ شہید اہلکاروں نے صحت مند مستقبل کے لیے کام کیا اور ذمہ داروں کو کوئی رعایت نہیں دی جائے گی۔
مہم 8 نومبر تک جاری
یہ واقعات ملک میں 2 نومبر سے شروع ہونے والی ذیلی قومی پولیو مہم کے دوسرے روز پیش آئے، جو 8 نومبر تک 97 منتخب اضلاع میں جاری رہے گی۔ قومی ایمرجنسی آپریشن سینٹر کے مطابق مہم کے پہلے روز 66 لاکھ 83 ہزار سے زائد بچوں کو ویکسین دی گئی، اور مجموعی ہدف پانچ سال سے کم عمر کے تقریباً دو کروڑ 40 لاکھ بچوں تک پہنچنا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق پاکستان اور افغانستان دنیا کے وہ واحد ملک ہیں جہاں جنگلی پولیو وائرس اب بھی مقامی طور پر موجود ہے، اور یہی وجہ ہے کہ ہر مہم میں ٹیموں کی حفاظت کا سوال اتنا ہی اہم ہو جاتا ہے جتنا خود ویکسینیشن۔


