اتوار, 8 نومبر 2026
اتوار, 8 نومبر 2026|
تازہ ترین
مضامین

نئی آٹو پالیسی: سستی گاڑی کا وعدہ، مگر تین بڑے امتحان باقی

News Cuff

فائل فوٹو: پاکستان میں سوزوکی آلٹو وی ایکس آر — نئی آٹو پالیسی کا ہدف چھوٹی گاڑیاں سستی کرنا ہے۔ (تصویر: Illusive255، وکیمیڈیا کامنز، CC BY-SA 3.0)

حکومت نے ہفتے کو نئی آٹو پالیسی 2026-31 کا اعلان کر دیا ہے۔ اسلام آباد میں پریس کانفرنس میں وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ اور وزیراعظم کے مشیر برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان نے بتایا کہ پالیسی چھ ستونوں پر کھڑی ہے: سستی گاڑیاں، برآمدات، مقامی پیداوار، گاڑیوں کی حفاظت، الیکٹرک گاڑیوں کی حوصلہ افزائی اور شفافیت۔ وعدہ بڑا ہے — لگژری گاڑیوں کے سوا ہر گاڑی سستی ہوگی، پانچ سال میں 6 ارب ڈالر کی برآمدات ہوں گی اور 2030 تک ہر تین میں سے ایک نئی گاڑی بجلی سے چلے گی۔ مگر کاغذ پر لکھا وعدہ اور شوروم کی قیمت میں فرق ہوتا ہے، اور اس پالیسی کا اصل امتحان اب شروع ہوگا۔

قیمتیں واقعی گریں گی؟
ہارون اختر کے مطابق مکمل تیار گاڑیوں، اسمبلی پلانٹس اور پرزوں پر ڈیوٹیاں ہر سال کم ہوں گی، اور پانچ سال بعد ٹیرف عالمی معیار کے قریب ہوگا۔ 850، 1000 اور 1300 سی سی گاڑیوں پر خاص توجہ ہے۔ سوال یہ ہے کہ ڈیوٹی میں کمی کا فائدہ خریدار تک پہنچے گا یا اسمبلر کی جیب میں رہے گا۔ خود تارڑ نے اعتراف کیا کہ ماضی میں تحفظ کی پالیسیوں کے تحت ڈیوٹیاں بڑھائی گئیں، مگر مقامی صنعت نے جدت نہیں دکھائی، نہ قدر میں اضافہ کیا۔ یہی وہ کمزوری ہے جسے نئی پالیسی کو توڑنا ہے — ورنہ قیمتیں کاغذ پر گریں گی، شوروم میں نہیں۔

آئی ایم ایف کی منظوری — سب سے نازک کڑی
الیکٹرک گاڑیوں پر سیلز ٹیکس کی شرحیں — مکمل الیکٹرک پر ایک فیصد، رینج ایکسٹینڈڈ پر چھ فیصد، پلگ ان ہائبرڈ پر نو فیصد — ابھی آئی ایم ایف کی منظوری سے مشروط ہیں۔ حکومت نے آئی ایم ایف کی 18 فیصد کی تجویز پہلے ہی مسترد کر دی ہے، مگر فنڈ سے حتمی رضامندی ابھی باقی ہے۔ 50 ہزار ڈالر تک کی الیکٹرک گاڑی پر کوئی کیپٹل ویلیو ٹیکس، ودہولڈنگ ٹیکس یا فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی نہیں ہوگی؛ اس سے مہنگی گاڑی لگژری سمجھی جائے گی۔ سٹیٹ بینک کی کار فنانسنگ بھی الیکٹرک گاڑیوں کے لیے 30 لاکھ سے بڑھا کر ایک کروڑ روپے کر دی گئی ہے، مدت تین سے پانچ سال۔ یہ سب کچھ اسی صورت میں چلے گا جب آئی ایم ایف راضی ہو — اور ماضی بتاتا ہے کہ فنڈ محصولات میں کمی کو آسانی سے قبول نہیں کرتا۔

برآمدات اور مقامی پیداوار کا دوہرا ہدف
مقامی پیداوار اب لازمی ہوگی، اہداف دیے جائیں گے۔ جو کمپنی برآمدی ہدف پورا کرے گی اسے مقامی ٹیکسوں کی واپسی (ڈی ایل ٹی ایل) پانچ فیصد ملے گی، اور اضافی برآمد پر دس فیصد مزید۔ مگر ہدف پورا نہ ہوا تو جرمانہ بھی ہوگا، اور ڈی ایل ٹی ایل صرف اسی صورت میں ملے گا جب برآمدی اور مقامی پیداوار دونوں کے اہداف پورے ہوں۔ چھ ارب ڈالر کا ہدف بلند ہے؛ پرزہ سازوں نے مسودے کے مرحلے پر ہی خبردار کر دیا تھا کہ ٹیرف میں تیزی سے کمی مقامی پرزہ سازی کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔ حکومت کا جواب ہے کہ مزید پلانٹ لگیں گے، نوکریاں بنیں گی — مگر اس کا ثبوت آنے والے برسوں میں ملے گا۔

خرچ کون اٹھائے گا؟
پالیسی میں محصولات کی غیر جانبداری کا اصول رکھا گیا ہے: مراعات کا خرچ 1000 سی سی سے بڑی پیٹرول گاڑیوں پر ٹیکس لگا کر پورا کیا جائے گا، جبکہ 1000 سی سی سے چھوٹی گاڑیوں پر کوئی تبدیلی نہیں ہوگی۔ یعنی 1300 سی سی گاڑی خریدنے والا متوسط طبقہ، بالواسطہ طور پر، الیکٹرک گاڑیوں کی مراعات کی قیمت چکائے گا۔ یہ توازن برقرار رہا تو پالیسی چل سکتی ہے؛ اگر بڑی گاڑیوں کی فروخت گری تو محصولات کا حساب بگڑ جائے گا۔

اس کے ساتھ حفاظتی معیار بھی سخت کیے گئے ہیں — اقوام متحدہ کے ڈبلیو پی 29 کوڈ کے تحت 45 اضافی معیارات — اور چارجنگ سٹیشنوں کے سامان پر سیلز ٹیکس ایک فیصد اور کسٹم ڈیوٹی ختم کر دی گئی ہے، تاکہ چارجنگ کا جال بچھ سکے۔ بی وائی ڈی کی مقامی پیداوار دسمبر سے شروع ہونے کی خبر بھی اسی سمت کا اشارہ ہے۔ اور الیکٹرک دو پہیہ گاڑیوں کی فروخت پہلے ہی 60 ہزار سے بڑھ کر دو لاکھ 40 ہزار ہو چکی ہے۔ سمت درست لگتی ہے۔ مگر فیصلہ تین چیزوں پر ہوگا: قیمتیں، آئی ایم ایف، اور برآمدات۔ ان تینوں میں سے کسی ایک میں بھی چوک ہوئی تو یہ پالیسی بھی پچھلی پالیسیوں کی طرح فائلوں میں رہ جائے گی۔

قرآن مجید اردو ترجمے کے ساتھ پڑھیںنماز کے اوقات • رمضان کیلنڈر • قرآنی دعائیں

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے