لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ: نجی میڈیکل کالجوں کو اضافی فیس واپس کرنا ہوگی

فائل فوٹو: لاہور ہائیکورٹ کی عمارت — عدالت نے نجی میڈیکل کالجوں کی اضافی فیس واپس کرنے کا حکم دیا۔ (تصویر: مریم آفتاب، وکیمیڈیا کامنز، CC BY-SA 4.0)
لاہور ہائیکورٹ نے نجی میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں سے اضافی فیس وصولی کے معاملے میں طلبہ کے حق میں تاریخی فیصلہ سنا دیا ہے۔ جسٹس خالد اسحاق نے 28 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلے میں قرار دیا کہ پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کو نجی کالجوں کی فیس مقرر کرنے اور اس کی حد بندی کا مکمل قانونی اختیار حاصل ہے۔ عدالت نے کالجوں کی تین درخواستیں مسترد کرتے ہوئے طلبہ اور سرپرستوں کی بارہ درخواستیں منظور کر لیں۔
دو کالجوں کو 29 نومبر تک رقم واپس کرنے کا حکم
فیصلے کے مطابق یونیورسٹی میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج فیصل آباد اور ایف ایم ایچ کالج آف میڈیسن اینڈ ڈینٹسٹری لاہور کو 30 اکتوبر سے 30 کام کے دنوں کے اندر طلبہ کی اضافی فیس ایڈجسٹ یا واپس کرنا ہوگی — یعنی 29 نومبر تک۔ فیصل آباد کالج کی 2025 کی آمدن 5 ارب 9 کروڑ 90 لاکھ روپے اور منافع 37 کروڑ 86 لاکھ روپے رہا؛ ہر طالب علم سے 8 لاکھ 41 ہزار 317 روپے اضافی وصول کیے گئے۔ ایف ایم ایچ کی آمدن ایک ارب 86 کروڑ 70 لاکھ اور منافع 11 کروڑ 19 لاکھ روپے رہا، ہر طالب علم سے 7 لاکھ 41 ہزار 802 روپے اضافی لیے گئے۔ 11 مارچ کے نوٹیفکیشن کے تحت ان دونوں کالجوں کی فیس کی حد بالترتیب 20 لاکھ 26 ہزار 341 اور 20 لاکھ 52 ہزار 99 روپے مقرر ہے۔
فیس کی حد کیسے طے ہوئی؟
پی ایم ڈی سی نے 28 اپریل 2025 کے نوٹیفکیشن سے ایم بی بی ایس اور بی ڈی ایس کی سالانہ فیس 18 لاکھ روپے مقرر کی تھی، 2025 کے سیشن کے لیے پانچ فیصد اضافے اور 2026 سے مہنگائی سے منسلک اضافے کی اجازت کے ساتھ۔ 6 اکتوبر 2025 کے نوٹیفکیشن سے 2025-26 کے سیشن کی حد 18 لاکھ 90 ہزار روپے ہو گئی۔ کالجوں نے ان نوٹیفکیشنوں کو چیلنج کیا تھا — عدالت نے کہا کہ فیس جسٹیفکیشن کمیٹی کے سامنے آڈٹ شدہ حسابات پیش کر کے فیس بڑھانے کی درخواست دینے والے ادارے بعد میں اسی اختیار کو چیلنج نہیں کر سکتے۔
تعلیم کاروبار نہیں
عدالت نے واضح کیا کہ نجی میڈیکل کالج خالص تجارتی ادارے نہیں — طبی تعلیم کا تعلق انسانی جان اور صحت عامہ سے ہے۔ آئین کے آرٹیکل 18 کے تحت کاروبار کی آزادی مطلق نہیں، مفاد عامہ میں اس پر معقول پابندیاں لگ سکتی ہیں۔ ساتھ ہی عدالت نے یہ بھی کہا کہ ریگولیٹر کو کالجوں کے جائز اخراجات کا خیال رکھنا ہوگا — صرف سستی فیس کا نام لے کر تعلیمی معیار کو نقصان نہیں پہنچایا جا سکتا۔
شکایت کرنے والے طلبہ کو تحفظ
فیصلے میں ان طلبہ کی شکایات کا بھی نوٹس لیا گیا جنہیں اپنے حق کی بات اٹھانے پر کالجوں کی جانب سے انتقامی سلوک کا سامنا کرنا پڑا۔ عدالت نے اداروں کو ہدایت کی کہ مقدمہ لڑنے والے طلبہ کے ساتھ کوئی امتیازی سلوک نہ کیا جائے — خلاف ورزی پر توہین عدالت کی کارروائی ہو سکتی ہے۔
یہ فیصلہ ملک بھر کے ہزاروں میڈیکل طلبہ اور ان کے والدین کے لیے بڑی راحت ہے، جو برسوں سے بڑھتی فیسوں کے بوجھ تلے دبے تھے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ 29 نومبر تک رقم واپس ہوتی ہے یا کالج سپریم کورٹ کا رخ کرتے ہیں۔



