بابوسر ٹاپ تین روز کی برف باری کے بعد کھل گیا، این ایچ اے نے برف ہٹا کر دونوں اطراف سے ٹریفک بحال کر دی

مانسہرہ: تین دن تک برف میں بند رہنے کے بعد بابوسر ٹاپ بالآخر کھل گیا۔ بابوسر ٹاپ کی دوبارہ کھلنے (Babusar Top reopening) کی خبر نے گلگت بلتستان اور خیبر پختونخوا کے درمیان سفر کرنے والوں کو بڑی راحت دی ہے۔ نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) نے درّے پر جمی برف ہٹائی تو دونوں اطراف سے ٹریفک رواں ہو گئی اور پھنسے ہوئے ٹینکر اور ٹرک بھی اپنی منزل کی طرف نکل پڑے۔
شام چار بجے کے بعد درّہ پھر بند ہو جائے گا
پولیس کے مطابق سڑک ہر قسم کی ٹریفک کے لیے صرف سہ پہر چار بجے تک کھلی رہے گی۔ اس کے بعد شدید سردی، دھند اور پھسلن کے خطرے کے پیش نظر آمدورفت روک دی جائے گی۔ تقریباً 13 ہزار 700 فٹ بلندی پر واقع یہ درّہ وادی کاغان کو چلاس اور گلگت بلتستان سے جوڑتا ہے اور قراقرم ہائی وے تک رسائی کا مختصر راستہ بھی یہی ہے، اس لیے اس کے بند ہونے سے سیاحوں کے ساتھ مقامی لوگ بھی بری طرح متاثر ہوتے ہیں۔
تازہ برف باری، مسافروں کو احتیاط کی ہدایت
رات گئے درّے پر ہلکی تازہ برف باری بھی ہوئی، جس کے بعد انتظامیہ نے مسافروں کو خبردار کیا ہے کہ سفر شروع کرنے سے پہلے موسم اور سڑک کی صورتحال ضرور معلوم کریں اور چار بجے سے کافی پہلے درّہ عبور کرنے کی کوشش کریں۔ برف ہٹنے سے ناران اور کاغان کے ہوٹلوں، ٹرانسپورٹرز اور چھوٹے کاروباروں کو بھی سکھ کا سانس ملا ہے، کیونکہ یہی راستہ وادی کی سیاحت کی جان ہے۔



