امریکا کی آٹھ ریاستوں نے اوپن اے آئی کے خلاف مقدمات دائر کر دیے، چیٹ جی پی ٹی کی حفاظت پر سوالات، کمپنی کا الزامات سے انکار

چیٹ جی پی ٹی بنانے والی کمپنی اوپن اے آئی کے لیے قانونی محاذ ایک ساتھ کئی ریاستوں میں کھل گیا ہے۔ امریکا کی آٹھ ریاستوں ایریزونا، آرکنساس، آئیڈاہو، آئیووا، کنساس، مونٹانا، نیبراسکا اور ویسٹ ورجینیا کے اٹارنی جنرلز نے بدھ کو اپنے اپنے ریاستی عدالتوں میں الگ الگ مقدمات دائر کیے ہیں۔ یہ ریاستیں مختلف جماعتوں کے اٹارنی جنرلز کی نمائندگی کرتی ہیں، یعنی معاملہ کسی ایک سیاسی کیمپ تک محدود نہیں۔
الزامات کیا ہیں
ریاستوں کا موقف ہے کہ کمپنی نے اپنے چیٹ بوٹ کی حفاظت کے بارے میں صارفین کو گمراہ کیا اور ریاستی صارف تحفظ قوانین کی خلاف ورزی کی۔ مقدمات میں یہ الزام بھی لگایا گیا ہے کہ چیٹ بوٹ نے بعض صارفین، جن میں کم عمر بھی شامل تھے، کو نقصان دہ مشورے دیے۔ واضح رہے کہ یہ اس مرحلے پر الزامات ہیں، کسی عدالت نے ان پر کوئی فیصلہ نہیں دیا۔ آئیووا کی اٹارنی جنرل برینا برڈ نے کمپنی پر بچوں کی حفاظت میں ناکامی کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ مقدمے کا مقصد کمپنی کو ریاستی قانون کا پابند بنانا ہے۔
ریاستیں چاہتی کیا ہیں
درخواستوں میں عدالتوں سے کہا گیا ہے کہ کمپنی کو بچوں کے تحفظ کے انتظامات مضبوط کرنے کا پابند کیا جائے، عمر کے مطابق حفاظتی فیچر سخت کیے جائیں اور خلاف ورزی پر جرمانے اور ہرجانے عائد کیے جائیں۔ بعض مقدمات میں کم عمر صارفین کے ڈیٹا اور ان سے حاصل منافع سے متعلق ریلیف بھی مانگا گیا ہے۔ فلوریڈا اس سے پہلے جون میں ایسی ہی پہلی ریاستی کارروائی کر چکا ہے، اس لیے یہ نئے مقدمات کمپنی کے خلاف اب تک کی سب سے بڑی مربوط ریاستی قانونی کوشش قرار دیے جا رہے ہیں۔
کمپنی کا جواب
اوپن اے آئی نے غلط کاری کی تردید کی ہے۔ کمپنی کے ترجمان ڈریو پوساٹیری کے مطابق چیٹ جی پی ٹی میں والدین کے کنٹرول، وقفے کی یاددہانی اور عمر کے مطابق حفاظتی انتظامات پہلے سے موجود ہیں اور کمپنی ریاستوں کے ساتھ مل کر حفاظت مزید بہتر کرنے پر کام کر رہی ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ سروس 13 سال اور اس سے بڑے صارفین کے لیے ہے اور 18 سال سے کم عمر کے لیے والدین کی اجازت درکار ہے۔ اب یہ معاملہ آٹھ الگ عدالتوں میں چلے گا اور اس کے فیصلوں میں وقت لگ سکتا ہے۔



