کراچی کے ساحل پر مینگرووز کی تباہی نے سیلاب اور کٹاؤ کا خطرہ بڑھا دیا، سپارکو کی سیٹلائٹ تصاویر نے 25 سال کی تبدیلی دکھا دی

کراچی: شہر کے ساحل پر خاموشی سے ایک ایسی تبدیلی ہوئی ہے جو اب سیٹلائٹ تصاویر میں صاف نظر آتی ہے۔ سپارکو کے مطابق مائی کلاچی بائی پاس کے قریب 2000 سے 2025 کے درمیان مینگرووز کے جنگلات اور قدرتی سمندری نالے آہستہ آہستہ ختم ہوتے گئے اور ان کی جگہ بھری ہوئی زمین اور شہری پلاٹوں نے لے لی۔ ادارے نے اسے ماحولیاتی تحفظ سے سخت اور زمین کھا جانے والی تعمیرات کی طرف منتقلی قرار دیا ہے۔
یہ درخت شہر کو بچاتے کیسے ہیں؟
مینگرووز صرف سبزہ نہیں ہوتے۔ یہ سمندری طوفان کی لہروں کو کمزور کرتے ہیں، کٹاؤ روکتے ہیں، تلچھٹ پھنساتے ہیں اور فضا سے کاربن جذب کرتے ہیں۔ مچھلیوں اور دیگر آبی حیات کی افزائش بھی انہی جڑوں کے سائے میں ہوتی ہے۔ سپارکو کا کہنا ہے کہ ان کے خاتمے سے مقامی سیلاب، ساحلی عدم استحکام اور زمین دھنسنے کا خطرہ بڑھے گا، اور قدرتی رکاوٹ ختم ہونے سے موسمیاتی خطرہ سیدھا آبادی اور عمارتوں پر آ پڑے گا۔
ایک حوصلہ افزا استثنا بھی ہے
تصویر کا دوسرا رخ سجاول کے شاہ بندر سے آیا ہے۔ وہاں 2019 سے 2026 کے درمیان لی گئی تصاویر میں مینگرووز کے رقبے میں 115 فیصد اضافہ ریکارڈ ہوا اور 151 ہیکٹر سے زائد نئی پود کاری سامنے آئی۔ ماحولیاتی ماہر محمد سلیم شیخ نے وفاقی اور سندھ حکومتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ تجاوزات روکی جائیں، ہر ساحلی منصوبے کی مکمل ماحولیاتی جانچ ہو اور مقامی انواع کے ساتھ بحالی کا کام سائنسی بنیادوں پر کیا جائے۔ رابطہ کرنے پر سینیٹر شیری رحمان نے تبصرے سے گریز کیا جبکہ میئر کراچی مرتضیٰ وہاب کی جانب سے کوئی جواب نہیں آیا۔



