پیر, 19 اکتوبر 2026
پیر, 19 اکتوبر 2026|
تازہ ترین
گھر پر ریسٹورنٹ جیسا چکن تکہ بنانے کا آسان طریقہ، دہی اور مصالحوں کی میرینیشن ہی اصل راز ہے•
جاز کیش نے امریکا میں منی 20/20 کا سلور ایوارڈ جیت لیا، صحت پلس پلیٹ فارم کو انشورنس ٹیکنالوجی میں عالمی اعزاز ملا
• کورین سائنس فکشن تھرلر فلم ’ہوپ‘ 23 اکتوبر کو پاکستان کے سینماؤں میں ریلیز ہوگی، ہم فلمز پیش کرے گی•
این سی اے لاہور میں پنک ٹوبر آگاہی سیشن، چھاتی کے کینسر کی بروقت تشخیص اور صحت مند طرز زندگی پر زور
• آلو قیمہ گھر پر بنائیں: دھابے جیسا مصالحہ، نرم آلو اور وہی پرانا گھریلو ذائقہ جو روٹی کے ساتھ جچتا ہے• ڈی جی آئی ایس پی آر کا دوٹوک پیغام، سعودی عرب کے دفاع کے لیے جو مدد درکار ہے وہ دی جا رہی ہے اور دی جاتی رہے گی• عمرہ زائرین کے لیے بڑی سہولت، مسجد الحرام اور مسجد نبوی میں ہجوم کی صورتحال اب موبائل پر لائیو دیکھی جا سکے گی• جھنگ تھل جیپ ریلی کا اختتام، سلطان خالد حمید خان نے صحرائی کیٹیگری جیت لی، پیرا گلائیڈر قاضی ظفر کی قربانی نے میلے کو سوگوار کر دیا•
مضامین

کراچی کے ساحل پر مینگرووز کی تباہی نے سیلاب اور کٹاؤ کا خطرہ بڑھا دیا، سپارکو کی سیٹلائٹ تصاویر نے 25 سال کی تبدیلی دکھا دی

News Cuff

کراچی: شہر کے ساحل پر خاموشی سے ایک ایسی تبدیلی ہوئی ہے جو اب سیٹلائٹ تصاویر میں صاف نظر آتی ہے۔ سپارکو کے مطابق مائی کلاچی بائی پاس کے قریب 2000 سے 2025 کے درمیان مینگرووز کے جنگلات اور قدرتی سمندری نالے آہستہ آہستہ ختم ہوتے گئے اور ان کی جگہ بھری ہوئی زمین اور شہری پلاٹوں نے لے لی۔ ادارے نے اسے ماحولیاتی تحفظ سے سخت اور زمین کھا جانے والی تعمیرات کی طرف منتقلی قرار دیا ہے۔

یہ درخت شہر کو بچاتے کیسے ہیں؟

مینگرووز صرف سبزہ نہیں ہوتے۔ یہ سمندری طوفان کی لہروں کو کمزور کرتے ہیں، کٹاؤ روکتے ہیں، تلچھٹ پھنساتے ہیں اور فضا سے کاربن جذب کرتے ہیں۔ مچھلیوں اور دیگر آبی حیات کی افزائش بھی انہی جڑوں کے سائے میں ہوتی ہے۔ سپارکو کا کہنا ہے کہ ان کے خاتمے سے مقامی سیلاب، ساحلی عدم استحکام اور زمین دھنسنے کا خطرہ بڑھے گا، اور قدرتی رکاوٹ ختم ہونے سے موسمیاتی خطرہ سیدھا آبادی اور عمارتوں پر آ پڑے گا۔

ایک حوصلہ افزا استثنا بھی ہے

تصویر کا دوسرا رخ سجاول کے شاہ بندر سے آیا ہے۔ وہاں 2019 سے 2026 کے درمیان لی گئی تصاویر میں مینگرووز کے رقبے میں 115 فیصد اضافہ ریکارڈ ہوا اور 151 ہیکٹر سے زائد نئی پود کاری سامنے آئی۔ ماحولیاتی ماہر محمد سلیم شیخ نے وفاقی اور سندھ حکومتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ تجاوزات روکی جائیں، ہر ساحلی منصوبے کی مکمل ماحولیاتی جانچ ہو اور مقامی انواع کے ساتھ بحالی کا کام سائنسی بنیادوں پر کیا جائے۔ رابطہ کرنے پر سینیٹر شیری رحمان نے تبصرے سے گریز کیا جبکہ میئر کراچی مرتضیٰ وہاب کی جانب سے کوئی جواب نہیں آیا۔

قرآن مجید اردو ترجمے کے ساتھ پڑھیںنماز کے اوقات • رمضان کیلنڈر • قرآنی دعائیں

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے