ایل پی جی کا بحران سنگین: شمالی علاقہ جات میں 750 روپے کلو تک، گھریلو سلنڈر دس ہزار روپے سے تجاوز

پشاور: ایل پی جی کی قیمتوں میں مسلسل اضافے نے عام شہریوں کی پریشانی بڑھا دی ہے۔ خیبر پختونخوا کے شمالی علاقوں میں ایل پی جی 750 روپے فی کلو تک فروخت ہو رہی ہے، جبکہ پشاور میں قیمت 600 روپے فی کلو تک پہنچ چکی ہے۔ کئی شہروں میں گھریلو سلنڈر کی قیمت دس ہزار روپے سے بھی تجاوز کر گئی ہے — یہ اوگرا کے مقرر کردہ 279 روپے 34 پیسے فی کلو کے سرکاری نرخ سے تین گنا سے بھی زیادہ ہے۔
سرحدی بندش اور درآمدی انحصار
ذرائع کے مطابق گزشتہ پانچ چھ دنوں سے قلت میں شدت آئی ہے۔ پاکستان کی ایل پی جی کا تقریباً 70 فیصد حصہ درآمد کیا جاتا ہے، اور تفتان سرحد کی بندش کے بعد سپلائی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ اوگرا کے ایک سینئر عہدیدار نے ایکسپریس ٹریبیون کو بتایا کہ امریکہ ایران کشیدگی کے باعث ایرانی سرحد سے آنے والی سپلائی رکی ہوئی ہے، جس کا براہ راست اثر ملکی مارکیٹ پر پڑ رہا ہے۔
اوگرا کی کارروائی تاخیر کا شکار
حیران کن بات یہ ہے کہ اوگرا نے منافع خوروں کے خلاف ابھی تک کوئی بڑی کارروائی شروع نہیں کی۔ ذرائع کے مطابق ریگولیٹر کو خدشہ ہے کہ سخت کارروائی سے ہڑتال یا سپلائی میں مزید خرابی پیدا ہو سکتی ہے۔ دوسری جانب حکومت مبینہ طور پر ماہانہ کے بجائے روزانہ کی بنیاد پر ایل پی جی کی قیمتوں کا تعین کرنے پر غور کر رہی ہے۔
سردیوں سے پہلے پریشانی
سردیوں کی آمد کے ساتھ ہی گھریلو صارفین کی پریشانی میں اضافہ ہو گیا ہے۔ شمالی علاقوں میں جہاں پائپ گیس کی سہولت بہت محدود ہے، لوگوں کا انحصار مکمل طور پر ایل پی جی پر ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ سرکاری نرخ پر عملدرآمد نہ ہونے سے عام آدمی سب سے زیادہ متاثر ہو رہا ہے، اور وہ بے بس ہو کر مہنگے داموں گیس خریدنے پر مجبور ہے۔


