پی ٹی آئی میں اختلافات کھل کر سامنے: فردوس شمیم نقوی کا استعفیٰ، بیرسٹر گوہر نے قبول کرنے سے انکار کر دیا؛ اڈیالہ جیل کے باہر تین کارکن گرفتار

اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف کے اندرونی اختلافات اب کھل کر سامنے آ گئے ہیں۔ پارٹی کے ایڈیشنل سیکرٹری جنرل فردوس شمیم نقوی نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا، جسے پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ دوسری جانب جمعرات کو اڈیالہ جیل کے باہر پولیس نے تین پی ٹی آئی کارکنوں کو گرفتار کر لیا، جو عمران خان سے ملاقات کے لیے آنے والے رہنماؤں کے ہمراہ تھے۔
شوکاز نوٹس کے معاملے پر استعفیٰ
نقوی کا استعفیٰ اس پس منظر میں آیا جب بیرسٹر گوہر نے انہیں سینیٹر مشال یوسفزئی کو پارٹی ڈسپلن کی خلاف ورزی پر شوکاز نوٹس جاری کرنے کی ہدایت کی تھی۔ نقوی کا کہنا ہے کہ انہوں نے ابھی تک وہ نوٹس جاری نہیں کیا، اور ان کے استعفے کا کوئی ناراضی یا اختلاف سے تعلق نہیں۔ دوسری جانب بیرسٹر گوہر کا مؤقف ہے کہ نقوی پارٹی کے تیس برس پرانے ساتھی ہیں اور ان کی خدمات کو دیکھتے ہوئے استعفیٰ قبول نہیں کیا جا سکتا — ذرائع کے مطابق استعفیٰ انہیں واپس کر دیا گیا ہے اور نقوی بدستور اپنے عہدے پر ہیں۔
واٹس ایپ گروپوں سے بھی دستبرداری
پارٹی ذرائع کے مطابق سینیٹر یوسفزئی نے ’’لمحاتی غصے‘‘ میں پارٹی کے واٹس ایپ گروپ چھوڑ دیے تھے، جنہیں جلد واپس لانے کی توقع ہے۔ پی ٹی آئی رہنما شیخ وقاص اکرم کا کہنا ہے کہ نقوی کسی گروپ سے نہیں نکلے اور صورتحال قابو میں آ جائے گی۔ تاہم پارٹی کے اندر ایک اور مسئلہ بھی سر اٹھا رہا ہے: سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ کے جاری کردہ نوٹیفکیشنز کو الیکشن کمیشن قبول نہیں کر سکتا، کیونکہ کمیشن نے پی ٹی آئی کے انٹرا پارٹی انتخابات مسترد کر رکھے ہیں اور یہ معاملہ لاہور ہائی کورٹ میں زیر سماعت ہے۔
اڈیالہ جیل کے باہر گرفتاریاں
دوسری جانب جمعرات کو اڈیالہ جیل کے باہر اس وقت کشیدگی پیدا ہوئی جب عمران خان سے ملاقات کے لیے آنے والے گیارہ افراد کو جیل انتظامیہ نے ملاقات کی اجازت نہ دی۔ وکیل عویس یونس چوہدری کے مطابق پولیس نے ملک حارث اعوان سمیت تین افراد کو حراست میں لے لیا، جن میں علی رضا اور عمر بیگ بھی شامل ہیں۔ چوہدری کا دعویٰ ہے کہ حارث اعوان اسلام آباد ہائی کورٹ کی ہدایت پر آئے تھے اور ان کے خلاف کوئی مقدمہ نہیں، مگر پولیس رہا کرنے کو تیار نہیں۔



