پاکستان اور مالدیپ کے درمیان براہ راست پروازیں: وزیراعظم نے سول ایوی ایشن کو فوری فزیبیلٹی اسٹڈی کی ہدایت کر دی

اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان اور مالدیپ کے درمیان براہ راست پروازیں شروع کرنے کے لیے سول ایوی ایشن حکام کو فوری فزیبیلٹی اسٹڈی تیار کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔ جمعرات کو اسلام آباد میں پاکستان–مالدیپ بزنس فورم سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مالے، اسلام آباد یا کراچی کے درمیان اس وقت کوئی براہ راست فضائی رابطہ موجود نہیں، اور یہ رابطہ دونوں ملکوں کے تجارتی اہداف کے لیے ناگزیر ہے۔ فورم میں مالدیپ کے صدر ڈاکٹر محمد معزیو بھی موجود تھے، جو تین روزہ سرکاری دورے پر منگل کو اسلام آباد پہنچے تھے — گیارہ برس میں کسی مالدیوی صدر کا یہ پہلا دورہ ہے۔
پہلی پرواز میں سیاح اور تاجر ہوں گے
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ فزیبیلٹی رپورٹ میں پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز یا کسی اور ملکی ایئرلائن کے ذریعے مالے کے لیے پہلی پرواز کا انتظام ہوگا، جس میں سیاح اور تاجر برادری کے نمائندے شامل ہوں گے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ مالدیپ کے صدر نے اپنی قومی ایئرلائن کو پاکستان کے لیے براہ راست پروازوں کا منصوبہ بنانے کی ہدایت کی ہے — مالدیوین ایئرلائن جلد مالے اور کراچی کے درمیان سروس شروع کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، جس سے سفر کے ساتھ تجارت اور سیاحت کے نئے دروازے کھلیں گے۔
سمندری رابطہ بھی ایجنڈے پر
فضائی رابطے کے ساتھ سمندری راستہ بھی فورم کی بحث کا حصہ رہا۔ وزیراعظم نے کہا کہ کراچی یا گوادر سے مالے تک قابل اعتماد براہ راست شپنگ شیڈول کے بغیر تجارتی اہداف پورے نہیں ہو سکتے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ صدر معزیو کے وطن واپسی کے ایک ہفتے کے اندر پاکستانی وزراء اور تاجروں پر مشتمل ایک وفد مالے جائے گا، جو برآمدات اور سرمایہ کاری کے مواقع کی نشاندہی کرے گا۔ دونوں ملکوں نے ایک روز قبل دوطرفہ تجارت دو برس میں تقریباً 13 ملین ڈالر سے بڑھا کر 200 ملین ڈالر کرنے کا ہدف طے کیا تھا — اور اسلام آباد کا پیغام واضح ہے کہ اب کام کا وقت ہے۔


