گورنر راج کی منظوری کا فیصلہ کن مرحلہ، قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اجلاس کل طلب، وفاقی دارالحکومت ہائی الرٹ، پی ٹی آئی کا عدالتوں اور ایوانوں میں چیلنج کرنے کا اعلان

اسلام آباد: خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کی منظوری کا معاملہ اب پارلیمنٹ کے سامنے آ گیا ہے — قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اجلاس 13 اکتوبر کو طلب کر لیے گئے ہیں، جہاں دونوں ایوان اس اقدام کی توثیق پر ووٹ دیں گے۔ آئین کے مطابق چونکہ صدر نے صوبائی اسمبلی کی قرارداد کے بغیر ایمرجنسی نافذ کی ہے، اس لیے دونوں ایوانوں کو دس روز کے اندر، یعنی 21 اکتوبر تک، اس کی منظوری دینا ہوگی، ورنہ اعلامیہ ختم ہو جائے گا۔ اعلامیہ تیس روز کے اندر مشترکہ اجلاس میں بھی پیش کیا جائے گا۔
وفاقی دارالحکومت کو اسی تناظر میں ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔ ریڈ زون اور داخلی راستوں پر سکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے، اسلام آباد، سندھ اور پنجاب کی پولیس نفری تعینات ہے جبکہ پمز، پولی کلینک اور نجی اسپتالوں کو بھی الرٹ رکھا گیا ہے۔ سیف سٹی کیمروں سے نگرانی جاری ہے اور اہم تنصیبات — ایوان صدر، وزیراعظم ہاؤس، پارلیمنٹ ہاؤس اور سپریم کورٹ سمیت — کی سکیورٹی خصوصی دستوں کے سپرد ہے۔
عدالتی اور ایوانی محاذ
پاکستان تحریک انصاف نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس فیصلے کو عدالتوں، اسمبلیوں اور عوامی فورمز پر چیلنج کرے گی۔ چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ لانگ مارچ باقاعدہ طور پر ختم نہیں کیا گیا اور جدوجہد جاری رہے گی۔ ماہرین کے مطابق گورنر راج کی مدت زیادہ سے زیادہ چھ ماہ ہو سکتی ہے، جس میں پارلیمنٹ دو دو ماہ کی توسیع دے سکتی ہے، جبکہ ایمرجنسی کی منظوری کے بعد اس کی کوئی مقررہ حد نہیں رہتی۔
ادھر پشاور سمیت صوبے کے مختلف شہروں میں احتجاج اور گرفتاریوں کا سلسلہ جاری ہے، جس کے باعث عوامی زندگی متاثر ہو رہی ہے۔ اب تمام نظریں کل کے پارلیمانی اجلاسوں پر ہیں، جہاں عددی اکثریت اس فیصلے کی قسمت کا تعین کرے گی۔



