اسحاق ڈار نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کا دفاع کر دیا، «شہریوں کی حفاظت کی بات ہو تو حکومت کے پاس کوئی اور راستہ نہیں تھا»، گورنر راج ضرورت پڑنے پر انتخابات تک جاری رہ سکتا ہے، اختیار ولی

اسلام آباد: نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ شہریوں کی جان و مال کی حفاظت کی بات ہو تو وفاقی حکومت کے پاس کارروائی کے سوا کوئی راستہ نہیں بچا تھا۔ اسلام آباد میں انسداد دہشت گردی سے متعلق ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ سیاسی نہیں بلکہ دہشت گردی کے اس عفریت کے خلاف ہے جس سے صوبہ ڈیڑھ دہائی سے متاثر ہے۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ حکومت اس سے قبل بھی مشکل فیصلے کر چکی ہے اور اس کی بھاری سیاسی قیمت ادا کر چکی ہے — معیشت کو دیوالیہ پن کے دہانے سے بچانے کے اقدامات اس کی مثال ہیں۔ ان کے بقول عوام کی زندگی اور املاک بچانے کے لیے جو بھی قیمت ادا کرنی پڑے، وہ کبھی زیادہ نہیں ہوتی، اور حکومت دوسری طرف دیکھ کر سوئی نہیں رہ سکتی تھی۔
«سیاسی اقدام نہیں، سلامتی کی ضرورت»
دوسری جانب وزیراعظم کے معاون خصوصی اختیار ولی نے ایک ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ گورنر راج ضرورت کے مطابق جاری رہے گا اور اگر ضرورت پڑی تو یہ انتخابات تک بھی رہ سکتا ہے، تاہم عام انتخابات اپنے مقررہ وقت پر ہوں گے اور ان کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ سابق وزیراعلیٰ سہیل آفریدی حفاظتی حراست میں ہیں اور صوبے میں غیر جانبدارانہ احتساب کا عمل شروع ہوگا۔
اختیار ولی نے مزید کہا کہ ایمرجنسی سے پہلے ہی صوبائی اسمبلی غیر فعال تھی اور بعض اضلاع میں انتظامی ڈھانچہ بری طرح متاثر ہو چکا تھا۔ ان کے مطابق وفاق کا صوبے میں کوئی سیاسی ایجنڈا نہیں، واحد مقصد امن کی بحالی اور ترقیاتی عمل کی ازسرنو شروعات ہے۔ ادھر اپوزیشن جماعتوں نے ان بیانات کو مسترد کرتے ہوئے فیصلے کو عوامی مینڈیٹ پر حملہ قرار دیا ہے۔



