وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی اور کابینہ ارکان احتیاطی حراست میں، وزیر مملکت طلال چوہدری نے تصدیق کر دی، پی ٹی آئی کا شدید احتجاج

پشاور: خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد صوبائی حکومت کے سربراہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور کابینہ کے بعض ارکان کو احتیاطی حراست میں لے لیا گیا ہے، جس کی تصدیق وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کر دی ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ حراست اتوار کے روز پشاور میں وزیراعلیٰ ہاؤس سے عمل میں آئی، جن ارکان کے خلاف مقدمات موجود ہیں ان پر قانون کے مطابق کارروائی ہوگی جبکہ باقی رہنما رہا کر دیے جائیں گے۔
ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ ہاؤس اور گرد و نواح کے اہم مقامات کو پولیس اور نیم فوجی دستوں نے گھیرے میں لے رکھا ہے اور راستوں پر کنٹینر کھڑے کر دیے گئے ہیں۔ صوبے کے بعض حصوں میں موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس میں تعطل کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور نے دعویٰ کیا ہے کہ انہیں ڈیرہ اسماعیل خان میں ان کی رہائش گاہ پر نظر بند کر دیا گیا ہے، جبکہ میڈیا رپورٹس کے مطابق صوابی اور خیبر سمیت مختلف اضلاع سے درجنوں کارکن بھی گرفتار ہوئے ہیں۔
پی ٹی آئی کا ردعمل
پاکستان تحریک انصاف نے گرفتاریوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے تمام رہنماؤں کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔ پارٹی رہنما شوکت یوسفزئی نے کہا کہ منتخب وزیراعلیٰ کو حراست میں لینا صوبے کے عوام کے مینڈیٹ کی توہین ہے۔ پی ٹی آئی کے رکن اسمبلی جنید اکبر کے مطابق صوبائی صدر کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔
ادھر وفاقی حکومت کا موقف ہے کہ یہ اقدامات امن و امان کی بحالی کے لیے ناگزیر تھے اور صوبائی حکومت دہشت گردی کے خلاف جنگ سے دانستہ طور پر الگ ہو گئی تھی۔ سیاسی مبصرین کے مطابق گرفتاریوں کے بعد وفاق اور پی ٹی آئی کے درمیان محاذ آرائی مزید تیز ہو گئی ہے اور آنے والے دنوں میں صورتحال مزید کشیدہ ہو سکتی ہے۔



