پی سی آر ڈبلیو آر: ملک بھر میں 27 بوتل بند پانی کے برانڈز انسانی صحت کے لیے غیر محفوظ قرار

فائل فوٹو: بوتل بند پانی کی بوتلیں — تصویر میں دکھائی دینے والا برانڈ رپورٹ میں نامزد برانڈز میں شامل نہیں
پاکستان کونسل آف ریسرچ ان واٹر ریسورسز (پی سی آر ڈبلیو آر) نے ملک بھر میں فروخت ہونے والے 27 بوتل بند پانی کے برانڈز کو انسانی صحت کے لیے غیر محفوظ قرار دے دیا ہے۔ کونسل کی تیسری سہ ماہی (جولائی تا ستمبر 2026) کی جانچ میں ان برانڈز میں جراثیم اور کیمیکل آلودگی پائی گئی۔
بیس شہروں سے 223 نمونے
حکومت کی ہدایت پر کونسل نے ملک کے بیس بڑے شہروں سے بوتل بند پانی کے 223 نمونے جمع کیے اور ان کا پاکستان اسٹینڈرڈز اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی کے مقرر کردہ معیار سے موازنہ کیا۔ جانچ کے نتائج جمعرات کو جاری کیے گئے۔
کون سے برانڈز، کیا خرابی؟
تین برانڈز — آبِ حرم، اے بی بلیو واٹر اور ایچ آر واٹر ہیلتھی لائف — میں سوڈیم کی مقدار 94 سے 164 پی پی ایم پائی گئی، جبکہ قابلِ قبول حد 50 پی پی ایم ہے۔ آبِ حرم میں کل تحلیل شدہ ٹھوس اشیا (ٹی ڈی ایس) کی سطح بھی 680 پی پی ایم نکلی، جو 500 پی پی ایم کی حد سے زیادہ ہے۔ فریش اسمارٹ پیور واٹر میں پوٹاشیم 20 پی پی ایم ملا، جو مقررہ حد سے دوگنا ہے۔ دو برانڈز — اکوافائن اور پریمیم صفا پیوریفائیڈ واٹر — میں سنکھیا (آرسینک) 13.5 سے 23.2 پی پی بی پایا گیا، جبکہ حد 10 پی پی بی ہے۔
22 برانڈز میں جراثیم
رپورٹ کے مطابق 22 برانڈز جراثیم سے آلودہ پائے گئے، جن میں آبِ حرم، دورو، آبِ مکران، واٹر ورس پیوریفائیڈ، جیل، سپ، صافی، پیور ایکوا ٹیک، ایکوا گرین، واٹر ٹائم، الساحہ، آبِ حیات، کے اینڈ ایس ایکوا سی، جی ای آر ایس سیف لائف، اطہر پریمیم، ایکوا ڈور، ایچ ایچ جی سویٹس اینڈ بیکرز، ڈرنکلی، ون فلو، زلمی پیور منرل واٹر، نیو اے ٹو زیڈ اور ایکوا انڈس شامل ہیں۔
صارفین کیا کریں؟
کونسل نے صارفین سے کہا ہے کہ بوتل بند پانی خریدنے سے پہلے اس کی سہ ماہی رپورٹ ضرور دیکھیں، جو کونسل کی ویب سائٹ pcrwr.gov.pk پر دستیاب ہے۔



