تجزیہ: رجسٹریشن مل گئی، عمارت کی جانچ نہیں ہوئی — پشاور کے اسکول سانحے نے پورا سیفٹی نظام بے نقاب کر دیا

ڈیر کالونی کے الخیر ایجوکیشن سینٹر کے پاس سب کاغذات موجود تھے۔ اسکول اسی سال مارچ میں خیبر پختونخوا پرائیویٹ اسکولز ریگولیٹری اتھارٹی سے رجسٹر ہوا تھا، اس کا نام فہرست میں تھا، اور والدین کے لیے یہی کافی تھا کہ ادارہ باقاعدہ منظور شدہ ہے۔ مگر جمعرات کو جب تین منزلہ عمارت کی چھت نیچے بیٹھے بچوں پر آ گری اور 35 جانیں گئیں، تو سوال کاغذات کا نہیں رہا، سوال یہ بن گیا کہ رجسٹریشن کے وقت عمارت کو دیکھا کس نے تھا؟ اس کا جواب اب خود ریگولیٹر دے رہا ہے، اور جواب سرٹیفکیٹ سے زیادہ خوفناک ہے۔
معائنہ ہوا، تکنیکی آدمی نہیں تھا
اتھارٹی کے مینجنگ ڈائریکٹر جاوید اقبال نے کھلے لفظوں میں مانا ہے کہ اسکول کے معائنے کے وقت تکنیکی عملہ موجود ہی نہیں تھا۔ ان کے بقول رجسٹریشن میں کمروں کی گنتی اور انتظامی شرائط دیکھی جاتی ہیں، جب کہ بنیادوں کی مضبوطی اور عمارت کی مجموعی حالت پرکھنا تعمیراتی ماہرین کا کام تھا، جو آئے ہی نہیں۔ اس سے آگے کی بات اور تلخ ہے: اتھارٹی کے پاس عمارتوں کی تکنیکی جانچ کے لیے اپنی ٹیم موجود نہیں، وہ خستہ حال عمارت پر جرمانہ تو کر سکتی ہے مگر اسکول بند کرنے کا اختیار اس کے پاس نہیں، اور غیر رجسٹرڈ اسکول کو بھی وہ بند نہیں کرا سکتی۔ یعنی جس ادارے کے نام پر والدین بچے بھیجتے ہیں، اس کے پاس نہ عمارت پرکھنے کے اوزار ہیں، نہ خطرہ نظر آنے پر دروازہ بند کرنے کی طاقت۔
تین منزلہ عمارت، اجازت کا سوال
پرائیویٹ اسکول ایسوسی ایشن کے رہنما انعام اللہ خان نے ذمہ داری سیدھی پرنسپل اور ریگولیٹری اتھارٹی پر ڈالی ہے اور یہ بھی کہا ہے کہ اس علاقے میں تین منزلہ اسکول عمارت کی اجازت ہی نہیں تھی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ عمارت ناقص تعمیر کا شکار تھی، مالک گرفتار ہے اور پرنسپل بھی حراست میں ہے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے بھی یہی سوال اٹھایا ہے کہ این او سی جاری کس نے کیا تھا۔ دوسری طرف حقائق جاننے والی کمیٹی کی سربراہی اسی جاوید اقبال کو دی گئی ہے جن کی اتھارٹی نے رجسٹریشن دی تھی — جو ادارہ خود سوالوں کے گھیرے میں ہو، اسی سے جواب مانگنا اس نظام کی سب سے بڑی کمزوری ہے۔
اب ہر اسکول کی جانچ ہوگی، مگر کیسے؟
سانحے کے بعد صوبے میں دوڑ لگ گئی ہے۔ نجی اسکولوں کے لیے ضلعی کمیٹیاں بنا دی گئی ہیں جن میں محکمہ سی اینڈ ڈبلیو کا نمائندہ بھی شامل ہے اور انہیں تین دن میں رپورٹس دینی ہیں، عمارتوں کو محفوظ، مرمت طلب یا خطرناک قرار دینا ہے۔ سرکاری اسکولوں کی ساختی جانچ کے احکامات الگ جاری ہو چکے ہیں، جن کی رپورٹس 26 اکتوبر تک مانگی گئی ہیں۔ نیت پر شک نہیں، مگر پیمانہ دیکھیے: ہزاروں عمارتیں اور چند دن۔ اگر یہ جانچ بھی کمروں کی گنتی اور دستخطوں تک رہ گئی، تو یہ مہم اگلے سانحے تک کی مہلت سے زیادہ کچھ نہیں ہوگی۔ اصل تبدیلی تین چیزوں سے آئے گی: رجسٹریشن سے پہلے انجینئر کی دستخط شدہ رپورٹ لازمی ہو، خطرناک قرار پانے والی عمارت واقعی خالی ہو، اور رپورٹس چھپائی نہ جائیں بلکہ والدین کے سامنے رکھ دی جائیں۔ بچے اب بھی انہی عمارتوں میں بیٹھے ہیں جن کی فائلیں مکمل ہیں؛ فائل مکمل ہونا کبھی حفاظت کی ضمانت نہیں تھا، پشاور نے یہ قیمت جانوں سے ادا کر کے بتا دیا ہے۔



