لاہور ایئرپورٹ پر پی آئی اے کے 20 سے زائد ملازمین پریمیم سیٹوں کی فیس جیب میں ڈالنے میں ملوث نکلے، آڈٹ میں 50 لاکھ 60 ہزار روپے کی بے ضابطگی سامنے آ گئی

قومی ایئر لائن کے لاہور سٹیشن پر پیسے کا ایک پرانا کھیل آڈٹ کی زد میں آ گیا ہے۔ علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر تعینات پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز کے 20 سے زائد ملازمین اور افسران پریمیم سیٹوں کی بکنگ میں فراڈ کے الزام میں گھر گئے ہیں، اور آڈٹ کے مطابق یہ بے ضابطگی 50 لاکھ روپے سے اوپر کی ہے۔
طریقہ واردات کیا تھا؟
دی نیوز کی رپورٹ کے مطابق گراؤنڈ عملہ ملکی اور بین الاقوامی پروازوں میں پریمیم، زیادہ ٹانگوں والی جگہ اور اگلی قطار کی سیٹوں کے اضافی پیسے مسافروں سے براہ راست وصول کرتا تھا — کبھی بورڈنگ کے بعد، کبھی پرواز روانہ ہونے کے بعد۔ یہ رقم ایئر لائن کے کھاتے میں جانے کے بجائے جیب میں جاتی، اور نظام میں انہی سیٹوں کو عام سیٹیں ظاہر کر کے ریکارڈ بدل دیا جاتا۔ مسافر کو سیٹ مل جاتی، کمپنی کو پیسہ نہیں ملتا، اور کاغذوں میں سب ٹھیک نظر آتا۔
آڈٹ میں پکڑ، تنخواہوں سے وصولی
یہ معاملہ لاہور فنانس اینڈ آڈٹ کمیٹی نے مئی 2024 اور مئی 2025 کے ریکارڈ کی جانچ کے دوران پکڑا۔ اب تک 50 لاکھ 60 ہزار 269 روپے ملزمان کی تنخواہوں سے کاٹ کر پی آئی اے کے کھاتے میں جمع کرائے جا چکے ہیں۔ رپورٹوں کے مطابق اس پکڑ نے ایئر لائن کے اندرونی نگرانی کے نظام، احتساب اور آمدن کے تحفظ پر ایک بار پھر سوالات کھڑے کر دیے ہیں — یہ سوال بھی کہ دو آڈٹ سائیکلوں تک یہ سلسلہ کسی کی نظر میں کیوں نہ آیا۔



