پنجاب میں لائیو اسٹاک کارڈ کے دوسرے مرحلے کا آغاز، کسانوں کو سولہ ارب بیس کروڑ روپے کے بلاسود قرضے ملیں گے، فی جانور ستائیس ہزار روپے مقرر

لاہور: پنجاب میں مویشی پالنے والے کسانوں کے لیے لائیو اسٹاک کارڈ کا دوسرا مرحلہ شروع ہو گیا ہے۔ وزیراعلیٰ مریم نواز نے بدھ کو لاہور میں کارڈ سوائپ کر کے اس مرحلے کا باقاعدہ افتتاح کیا، اور اس موقع پر محکمہ لائیو اسٹاک کی کارکردگی پر مبنی دستاویزی فلم بھی دکھائی گئی۔
اس مرحلے میں سولہ ارب بیس کروڑ روپے کے بلاسود قرضے دیے جائیں گے۔ ہر اہل کسان کو فی جانور ستائیس ہزار روپے تک کا قرض ملے گا، جس سے وہ ونڈا، سائلیج اور معدنی آمیزے جیسی ضروری خوراک خرید سکے گا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ کسان کو صرف اصل رقم واپس کرنی ہوگی؛ سود کا سارا بوجھ صوبائی حکومت خود اٹھائے گی۔ قرض کی رقم کا پچیس فیصد حصہ اے ٹی ایم سے نقد نکالنے کی سہولت بھی رکھی گئی ہے۔
خوراک کے ساتھ صحت کا پیکج بھی
کارڈ کے ذریعے جانوروں کی مفت ٹیگنگ اور منہ کھر کی بیماری سے بچاؤ کی ویکسین بھی فراہم کی جائے گی۔ حکومت کا ہدف ہے کہ آئندہ دو برسوں میں چھ لاکھ جانوروں کو متوازن خوراک تک پہنچایا جائے، تاکہ گوشت کی پیداوار میں اضافہ ہو اور جانور صحت مند رہیں۔
پہلے مرحلے کے اعداد حوصلہ افزا رہے
بریفنگ میں بتایا گیا کہ پہلے مرحلے میں قرضوں کی وصولی کی شرح چھیانوے فیصد رہی، جو اس طرح کی اسکیموں کے لیے غیر معمولی سمجھی جاتی ہے۔ صوبے بھر کے کسانوں کے لیے تیئیس ہزار سے زائد کارڈ تیار کیے جا چکے ہیں، اور خواتین کسانوں کی تعداد بھی نوے سے بڑھ کر گیارہ سو سے اوپر جا چکی ہے۔ حکام کے مطابق پنجاب سے گوشت کی برآمدات میں ایک سال کے دوران چھیانوے ملین ڈالر کا اضافہ ہوا ہے، جانوروں کی برآمدات تینتالیس فیصد بڑھی ہیں، اور چین، سعودی عرب، خلیجی ممالک، آذربائیجان، ازبکستان اور یورپی منڈیوں کے لیے آٹھ بڑے برآمد کنندگان کے ساتھ معاہدے ہو چکے ہیں۔ لائیو اسٹاک کنیکٹ پورٹل کے ذریعے تیئیس ہزار کسان براہ راست برآمد کنندگان سے جڑ چکے ہیں۔
اصل کسوٹی اب یہ ہوگی کہ قرض چھوٹے اور دور دراز کے کسان تک کتنی آسانی سے پہنچتا ہے، کیونکہ اسکیم کی کامیابی کا اصل پیمانہ یہی رسائی ہے۔



