شہنشاہ قوالی استاد نصرت فتح علی خان کی 78ویں سالگرہ، وہ آواز جس نے قوالی کو فیصل آباد سے اٹھا کر پوری دنیا تک پہنچا دیا

فیصل آباد: استاد نصرت فتح علی خان کی 78ویں سالگرہ پر مداحوں نے ایک بار پھر اس آواز کو یاد کیا جو کبھی پرانی نہیں ہوتی۔ وہ 13 اکتوبر 1948 کو فیصل آباد میں پیدا ہوئے اور صرف اڑتالیس برس کی عمر میں 16 اگست 1997 کو لندن میں انتقال کر گئے، مگر ان کی قوالی آج بھی ہر نسل کے سامعین تک پہنچ رہی ہے۔
ان کے والد چاہتے تھے کہ بیٹا ڈاکٹر یا انجینئر بنے۔ نصرت نے صدیوں پرانا خاندانی فن چنا، اور پھر اس فن کو ایسی بلندی دی کہ دنیا انہیں شہنشاہ قوالی کہنے لگی۔ وہ مشرق اور مغرب کی موسیقی کو جوڑنے والے اولین فنکاروں میں تھے؛ قوالی، جو صوفی محفلوں کی پہچان تھی، ان کی آواز میں کنسرٹ ہالوں اور عالمی میلوں تک جا پہنچی۔
ریکارڈ بھی، اعزاز بھی
ان کے نام ایک سو پچیس البم ریکارڈ کرنے کا گنیز ریکارڈ ہے — کسی بھی قوالی گلوکار کے لیے یہ تعداد آج بھی بے مثال ہے۔ حکومت پاکستان نے 1987 میں انہیں تمغہ حسن کارکردگی دیا اور یونیسکو میوزک پرائز بھی ان کے حصے میں آیا۔ ان کا البم عالمی موسیقی کے مقابلوں میں گریمی نامزدگی تک پہنچا۔
مغربی موسیقی کار بھی ان کے مداح تھے۔ پیٹر گیبریل کے ساتھ ان کا کام بین الاقوامی فلموں کی موسیقی میں سنائی دیا اور کینیڈین موسیقی کار مائیکل بروک کے ساتھ ان کے البم آج بھی سنے جاتے ہیں۔ ان کے بھتیجے راحت فتح علی خان اسی خاندانی روایت کو آگے بڑھا رہے ہیں۔
سالگرہ کا اصل سبق شاید یہی ہے کہ فن کی کوئی سرحد نہیں ہوتی۔ فیصل آباد کے ایک نوجوان کی آواز زبان نہ سمجھنے والوں کو بھی رلا گئی اور ہنسا گئی — اور انتقال کے انتیس برس بعد بھی نئے سامعین انہیں اسی طرح ڈھونڈ رہے ہیں جیسے پہلی بار سن رہے ہوں۔



