اتوار, 8 نومبر 2026
اتوار, 8 نومبر 2026|
تازہ ترین
کالمز

بچوں کا تحفظ: قانون صرف گمشدگی کے بعد کیوں جاگتا ہے؟

News Cuff

فائل فوٹو: اسلام آباد میں عدالتِ عظمیٰ پاکستان کی عمارت — بچوں کے حقوق پر عدالتوں کی فقہ اسی دلیل کا مرکز ہے۔

بچے کے لیے گھر سب سے محفوظ جگہ ہونی چاہیے۔ مگر وکیل این بینڈیال نے ڈان میں اپنے کالم "When home is hell” میں لکھا ہے کہ 2026 میں کئی بچے اپنے ہی گھر والوں یا جاننے والوں کے ہاتھوں مارے گئے یا زیادتی کا شکار ہوئے۔ گھر ہی جب جہنم بن جائے تو بچہ کہاں جائے؟

قانون ردعمل کا، روک تھام کا نہیں

بینڈیال کا مرکزی نکتہ یہ ہے کہ پاکستان میں بچوں کے تحفظ کے قوانین ردعمل پر بنے ہیں، روک تھام پر نہیں۔ زینب الرٹ ایکٹ تب حرکت میں آتا ہے جب بچہ گم ہو چکا ہو۔ گھر کے اندر پیشگی مداخلت کا اختیار تحفظ کے اداروں کے پاس عملاً نہیں ہے — یعنی قانون اس وقت جاگتا ہے جب نقصان ہو چکا ہو۔

اعداد جو پریشان کرتے ہیں

کالم کے مطابق 2026 کی پہلی ششماہی میں بچوں سے زیادتی کے تقریباً دو ہزار واقعات رپورٹ ہوئے، جبکہ 2025 میں یہ تعداد تین ہزار چھ سو سے زیادہ تھی۔ یہ صرف رپورٹ ہونے والے کیس ہیں؛ اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔

کیا بدلنا چاہیے؟

بینڈیال تین چیزیں مانگتی ہیں: پیشہ ور افراد کے لیے لازمی رپورٹنگ، بچوں کے لیے حساس تفتیش، اور عدالتوں کی "بچہ شہری” والی فقہ کو آگے بڑھانا۔ ان کا استدلال سیدھا ہے — بچے کو محض تحفظ کا مستحق نہیں، مکمل شہری سمجھا جائے، جس کے حقوق گھر کی دہلیز پر ختم نہیں ہوتے۔

یہ تجزیہ این بینڈیال کے کالم "When home is hell” (ڈان، 7 نومبر 2026) پر مبنی ہے۔

Source: https://www.dawn.com/news/2042776

قرآن مجید اردو ترجمے کے ساتھ پڑھیںنماز کے اوقات • رمضان کیلنڈر • قرآنی دعائیں

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے