ہفتہ, 7 نومبر 2026
ہفتہ, 7 نومبر 2026|
تازہ ترین
کالمز

روپے کی قدر: عشرت حسین کا سوال — شرح تبادلہ پالیسی کا آلہ نہیں، بازار کی قیمت ہے

News Cuff

فائل فوٹو: کراچی میں اسٹیٹ بینک کی پرانی عمارت، جو اب اسٹیٹ بینک میوزیم ہے — یہ وہ ادارہ ہے جس کی سربراہی عشرت حسین کر چکے ہیں۔

پاکستان میں جب بھی روپیہ ڈگمگاتا ہے، ایک ہی مطالبہ سننے کو ملتا ہے: شرح تبادلہ کو "درست” کر دو۔ سابق گورنر اسٹیٹ بینک عشرت حسین نے ڈان میں اپنے کالم "Exchange rate’s woeful tale” میں اسی سوچ کو چیلنج کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ شرح تبادلہ کوئی پالیسی کا آلہ نہیں، بازار کی قیمت ہے — اور قیمتیں حکم سے نہیں، بنیادوں سے بدلتی ہیں۔

حقیقی موثر شرحِ تبادلہ پر سوال

حسین کا پہلا سوال ریئل ایفیکٹیو ایکسچینج ریٹ پر ہے، جسے اکثر پالیسی کا پیمانہ بنا لیا جاتا ہے۔ کیا 2010 کا بنیادی سال واقعی توازن کی شرح ہے؟ کیا تجارتی وزن چین سے آزاد تجارتی معاہدے کے بعد کی حقیقت دکھاتے ہیں؟ اور کیا یہ اشاریہ ترسیلاتِ زر، بیرونی سرمایہ کاری اور قرضوں کے بہاؤ کو پکڑتا بھی ہے؟

تین ٹیسٹ، ایک نتیجہ

اپنے جواب کے لیے حسین تین ٹیسٹ لگاتے ہیں: انٹربینک اور اوپن مارکیٹ کے درمیان فرق، انتظامی پابندیاں، اور ذخائر میں کمی۔ تینوں کی روشنی میں ان کا نتیجہ یہ ہے کہ روپیہ بڑی حد تک بازار کے مطابق طے ہو رہا ہے۔

زبردستی کی قدر میں کمی کا انتباہ

سب سے اہم انتباہ یہ ہے کہ دس فیصد زبردستی کی قدر میں کمی سے برآمد کنندگان کو صرف دو سے تین فیصد خالص فائدہ ہوگا، جبکہ مہنگائی بھڑک اٹھے گی۔ پائیدار استحکام کا راستہ حسین کے نزدیک کہیں اور ہے: قابلِ اعتماد مالیاتی نظم، وسیع تر ٹیکس بنیاد اور زیادہ پیداواری صلاحیت۔

یہ تجزیہ عشرت حسین کے کالم "Exchange rate’s woeful tale” (ڈان، 7 نومبر 2026) پر مبنی ہے۔

Source: https://www.dawn.com/news/2042777

قرآن مجید اردو ترجمے کے ساتھ پڑھیںنماز کے اوقات • رمضان کیلنڈر • قرآنی دعائیں

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے