پی ٹی آئی کا چیف جسٹس سے مطالبہ: عمران خان کے علاج کے عدالتی احکامات پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے

فائل فوٹو: عمران خان لندن میں چیتھم ہاؤس میں خطاب کرتے ہوئے — پی ٹی آئی نے چیف جسٹس سے ان کے علاج کے عدالتی احکامات پر عملدرآمد کا مطالبہ کیا ہے (تصویر: چیتھم ہاؤس / ویکیمیڈیا کامنز)
اسلام آباد: تحریک انصاف کی کور کمیٹی نے چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی سے مطالبہ کیا ہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان کے علاج سے متعلق عدالتی احکامات پر فوری اور مؤثر عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔ کمیٹی کا اجلاس جمعرات کی رات دیر گئے ہوا، جس میں بانی پی ٹی آئی کی صحت پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔
اجلاس ایسے وقت ہوا جب میڈیا رپورٹس میں کہا گیا کہ عمران خان کا بلڈ پریشر 192 تک جا پہنچا ہے۔ کمیٹی کو ان کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر سے حالیہ ملاقات کی تفصیل بھی بتائی گئی۔ بیان کے مطابق کمیٹی نے بلڈ پریشر میں اضافے کی خبروں کو "انتہائی تشویشناک” قرار دیا اور جیل میں طبی سہولتوں کی کمی اور اہل خانہ اور ذاتی معالجین سے ملاقات میں رکاوٹوں پر شدید تشویش ظاہر کی۔
ذاتی معالجین تک رسائی اور شفا اسپتال منتقلی کا مطالبہ
کمیٹی نے متفقہ طور پر طے کیا کہ عمران خان کی صحت اور زندگی کا تحفظ ایک فوری انسانی مسئلہ ہے اور اس میں کسی غفلت، تاخیر یا غیر ذمہ داری کی کوئی گنجائش نہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ ان کی صحت کو سنجیدہ انسانی اور طبی ہنگامی صورتحال سمجھا جائے، نہ کہ محض سیاسی یا قانونی تنازع۔ کمیٹی نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ عمران خان کے ذاتی معالجین کو فوری، بلا رکاوٹ اور مؤثر رسائی دی جائے، تمام ضروری طبی معائنے اور ٹیسٹ بلا تاخیر کرائے جائیں اور مکمل طبی جانچ اور علاج کے لیے انہیں شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کیا جائے۔
عدالتی احکامات پر عمل آئینی ذمہ داری قرار
کمیٹی نے چیف جسٹس سے اپیل کی کہ وہ عمران خان کے علاج کے عدالتی احکامات پر عملدرآمد یقینی بنائیں اور معاملے کو اس کی "غیر معمولی انسانی اہمیت” کے پیش نظر فوری توجہ دیں۔ بیان میں کہا گیا کہ عدالتی احکامات پر عملدرآمد متعلقہ حکومتی اور انتظامی اداروں کی آئینی اور قانونی ذمہ داری ہے اور اس سے کسی صورت گریز نہیں کیا جا سکتا۔
شاہ محمود قریشی کی صحت پر بھی تشویش
کمیٹی نے پارٹی کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی کی صحت پر بھی تشویش کا اظہار کیا، جو جیل میں گر گئے تھے، اور ان کی مکمل طبی جانچ اور علاج کے لیے فوری اسپتال منتقلی کا مطالبہ کیا۔
پس منظر: 18 اگست کا عدالتی حکم
عمران خان اگست 2023 سے جیل میں ہیں۔ سپریم کورٹ نے 18 اگست کو حکومت کو ہدایت کی تھی کہ انہیں اسلام آباد کے شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کیا جائے۔ تاہم حکومت انہیں سرکاری اسپتال پمز لے گئی اور پھر واپس جیل پہنچا دیا۔ جیل سپرنٹنڈنٹ کی رپورٹ کے ساتھ منسلک دستاویز کے مطابق پمز کے ڈاکٹر نے یکم اگست کو ان کا معائنہ کیا تھا اور بلڈ پریشر میں بے قابو اتار چڑھاؤ، دل کی دھڑکن، سر درد اور بے چینی کی شکایت نوٹ کی تھی۔ 10 اگست کو پمز کے ماہرین پر مشتمل میڈیکل بورڈ نے بھی ان کا معائنہ کیا تھا۔

