ہفتہ, 7 نومبر 2026
ہفتہ, 7 نومبر 2026|
تازہ ترین
سیاست

بلاول بھٹو کا وفاقی حکومت کو مشورہ: سب سے لڑنا بند کر کے سیاسی اسٹیک ہولڈرز سے بات کریں

News Cuff

فائل فوٹو: بلاول بھٹو زرداری ایک جلسے سے خطاب کر رہے ہیں — یہ تصویر لاڑکانہ کی تقریب کی نہیں ہے

لاڑکانہ: چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے وفاقی حکومت کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ہر ایک سے لڑنے کے بجائے سیاسی، سماجی اور صوبائی اسٹیک ہولڈرز سے بات کرے۔ جمعے کو اپنے آبائی حلقے میں 600 بستروں کے اسپتال کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت کی توجہ عوام کے مسائل پر ہونی چاہیے، نہ کہ آپس کے اختلافات پر۔

’’سب سے لڑتے رہے تو معیشت پر توجہ کب دیں گے؟‘‘
بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ اگر ہم آپس میں لڑتے رہے، پی ٹی آئی سے لڑتے رہے، مولانا فضل الرحمٰن سے لڑتے رہے، اور دہشت گردوں، بھارت اور افغانستان سے بھی لڑتے رہے، تو پھر عوام کی تکلیف دور کرنے کا وقت کب نکلے گا؟ ان کے بقول ملک کو اس وقت سب سے بڑا امتحان معیشت کا درپیش ہے، اور اس امتحان میں کامیابی صرف اس صورت میں ممکن ہے جب حکومت اور متعلقہ فریق عوام کے مسائل پر توجہ مرکوز کریں۔

ایران جنگ کے معاشی اثرات ’’کمر توڑ‘‘ بوجھ
پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے کہا کہ امریکہ۔اسرائیل کی ایران پر جنگ کا معاشی بوجھ پوری دنیا کے لوگ برداشت کر رہے ہیں، امریکہ سے لے کر لاڑکانہ تک۔ یہ بوجھ ایسا ہے جو پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا، اور اگر جنگ کل ہی ختم ہو جائے تو بھی اس کے معاشی اثرات جلد ختم نہیں ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ جنگ میں براہ راست شریک نہ ہونے والے ممالک کے لیے بھی اپنے عوام کی دیکھ بھال سب سے بڑا امتحان بن چکی ہے۔

انتخابی اصلاحات: اپوزیشن شامل ہو یا شکایت نہ کرے
بلاول بھٹو نے کہا کہ پاکستان میں یہ روایت رہی ہے کہ اپوزیشن میں بیٹھی جماعتیں حکومت پر دھاندلی کا الزام لگاتی ہیں۔ ان کے بقول حکومت کی انتخابی اصلاحات کمیٹی اس بنیادی مسئلے کو حل کرنے کا موقع ہے، اور پی ٹی آئی کو بھی اس میں برابری کی بنیاد پر شامل کیا جانا چاہیے تاکہ انتخابات کے بعد وہ دھاندلی کا رونا نہ روئے۔ اگر اپوزیشن جوڈیشل کمیشن یا انتخابی اصلاحات کمیٹی میں شامل نہیں ہوتی، تو اسے بعد میں شکایت نہیں کرنی چاہیے۔

خیبر پختونخوا میں گورنر راج کا دفاع
گورنر راج کے معاملے پر بلاول بھٹو نے کہا کہ کسی بھی منتخب حکومت کو ہٹانا مناسب نہیں، لیکن دہشت گردی پیپلز پارٹی کے لیے سرخ لکیر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ نے سر تسلیم خم کر کے علانیہ کہہ دیا تھا کہ وہ دہشت گردوں سے نہیں لڑیں گے، جس کے بعد آئینی امور کو مدنظر رکھتے ہوئے وزیر اعظم نے صوبے میں گورنر راج اور ایمرجنسی نافذ کی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ آج بھی کہتے ہیں کہ بات چیت ہونی چاہیے، اور گورنر راج ختم کرنے کا مطالبہ سب سے پہلے وہ خود کریں گے۔

تقریب میں بلاول بھٹو نے لاڑکانہ ڈویژن کے اہم منصوبوں کی بروقت تکمیل کی بھی ہدایت کی، جن میں شہر کے پانی اور سیوریج نظام کی بہتری اور پھلوں و سبزیوں کی نئی تھوک منڈی شامل ہے۔ انہوں نے بتایا کہ چندکا اسپتال ذوالفقار علی بھٹو کی طرف سے عوام کو تحفہ تھا، لیکن اب مریضوں کا بوجھ اس کی گنجائش سے بڑھ چکا ہے، اسی لیے نیا 600 بستروں کا اسپتال بنایا جا رہا ہے۔

قرآن مجید اردو ترجمے کے ساتھ پڑھیںنماز کے اوقات • رمضان کیلنڈر • قرآنی دعائیں

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے