اتوار, 8 نومبر 2026
اتوار, 8 نومبر 2026|
تازہ ترین
کالمز

حامد میر: جموں 1947 کا قتلِ عام اور آج کی کشمیر پالیسی ایک ہی سلسلہ

News Cuff

فائل فوٹو: جموں کا باہو قلعہ — یہ تصویر 1947 کے واقعات کی نہیں، آج کے جموں کی ہے۔

6 نومبر یومِ شہدائے جموں ہے، اور اسی موقع پر حامد میر نے روزنامہ جنگ میں ایک کالم لکھا ہے جس کا عنوان ہے: یہ قتلِ عام کون روکے گا؟ کالم کا رخ ماضی کی طرف ہے، مگر اس کا سوال آج کا ہے۔

ایک برطانوی صحافی کی گواہی

میر کی کہانی کا مرکز این اسٹیفنز ہے — برطانوی مسیحی صحافی جو 1942 سے کلکتہ کے اخبار دی اسٹیٹس مین کا ایڈیٹر رہا اور گاندھی اور جناح دونوں کے قریب تھا۔ اسٹیفنز نے جموں میں 5 اور 6 نومبر 1947 کو مسلمانوں کے منظم قتلِ عام کو دستاویزی شکل دی۔ میر کے مطابق اس قتلِ عام میں دو لاکھ سینتیس ہزار افراد مارے گئے۔

1951 میں ملک بدری

اسٹیفنز کو اپنی رپورٹنگ کی قیمت چکانا پڑی — 1951 میں اسے بھارت چھوڑنا پڑا۔ میر لکھتے ہیں کہ اس کے پیچھے اس وقت کے وزیرِ داخلہ ولبھ بھائی پٹیل کا دباؤ تھا۔ سچ لکھنے والے کو ملک سے نکال دیا گیا، مگر دستاویز رہ گئی۔

آج کا سوال

میر کا اصل نکتہ یہ ہے کہ یہ منصوبہ ختم نہیں ہوا۔ ان کے مطابق جموں و کشمیر کی مسلم اکثریت کو اقلیت میں بدلنے کا وہی سلسلہ آج بھارتیہ جنتا پارٹی کے دور میں بھی جاری ہے۔ وہ یہ بھی یاد دلاتے ہیں کہ آر ایس ایس نے جولائی 1947 میں لاہور میں بھی ایسا ہی قتلِ عام منصوبہ بنایا تھا۔ کالم کا سوال سیدھا ہے: یہ سلسلہ کون روکے گا؟

یہ تجزیہ حامد میر کے کالم "یہ قتلِ عام کون روکے گا؟” (روزنامہ جنگ، 5 نومبر 2026) پر مبنی ہے۔
Source: https://jang.com.pk/news/1630573

قرآن مجید اردو ترجمے کے ساتھ پڑھیںنماز کے اوقات • رمضان کیلنڈر • قرآنی دعائیں

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے